امریکا کا 8 بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کی مستقل رہائش کا عمل معطل کرنے کا فیصلہ
واشنگٹن( مانیٹرنگ ڈیسک) امریکا نے آٹھ بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کے ملازمین کی مستقل رہائش سے متعلق تصدیقی عمل معطل کردیا ہے، جس کے بعد ان اداروں کی نئی درخواستیں قبول نہیں کی جائیں گی اور زیر التوا درخواستوں پر کارروائی بھی روک دی جائے گی۔متاثرہ کمپنیوں میں بھارتی ادارے ٹاٹا کنسلٹنسی سروسز، انفوسس، وپرو اور ایچ سی ایل جبکہ امریکی کمپنیوں مائیکروسافٹ، ایڈوب، کاگنیزنٹ اور کیپ جیمینی شامل ہیں۔ امریکی وزیر محنت کے مطابق ان اداروں کی درخواستوں پر کارروائی معطل رہے گی۔امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے بعض کمپنیوں پر مقامی ملازمین کی جگہ غیر ملکی کارکن بھرتی کرنے اور ملازمتوں سے متعلق ضابطوں سے فائدہ اٹھانے کے الزامات عائد کیے ہیں۔دوسری جانب بھارتی ٹیکنالوجی صنعت کی نمائندہ تنظیم کا کہنا ہے کہ اس کے رکن اداروں نے امریکا میں مقامی بھرتیوں میں اضافہ کیا ہے۔ادھر ایلون مسک نے بھارت میں اسٹارلنک کی خدمات شروع ہونے میں تاخیر پر اعتراضات اٹھاتے ہوئے مکیش امبانی کے حوالے سے سوال کیا کہ کیا وہ بھارت کے اصل فیصلہ ساز ہیں؟ کانگریس رہنما راہول گاندھی نے جواب میں کہا کہ مسک کو ابھی ایک اور شخص کے بارے میں جاننا باقی ہے۔