خفیہ معلومات افشا کرنے کا الزام، امریکی جنرل عہدے سے برطرف
واشنگٹن (مانیٹرنگ ڈیسک) امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ نے خفیہ فوجی معلومات میڈیا کو افشا کرنے کے الزام میں لیفٹیننٹ جنرل بریٹ سلویہ کو عہدے سے برطرف کر دیا ہے۔یہ کارروائی ایران کے خلاف جاری جنگ کے دوران خفیہ معلومات افشا ہونے کے معاملے پر پینٹاگون کی وسیع تحقیقات کے تحت کی گئی۔ پینٹاگون کے ایک سینئر عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ جنرل سلویہ سے پوچھ گچھ کے لیے پولی گراف ٹیسٹ لیے گئے، جن میں وہ 3 مرتبہ ناکام رہے۔عہدیدار کے مطابق قومی سلامتی کے تحفظ کے لیے جنرل کی فوری برطرفی ضروری تھی، تاہم ان الزامات پر ان کا مؤقف سامنے نہیں آسکا۔جنرل بریٹ سلویہ پینٹاگون کے جوائنٹ اسٹاف میں حکمت عملی، منصوبہ بندی اور پالیسی کے ڈائریکٹوریٹ کے سربراہ تھے۔ یہ عہدہ جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کے چیئرمین جنرل ڈین کین کو اعلیٰ فوجی حکمت عملی کے معاملات میں مشاورت فراہم کرتا ہے۔ وہ اس سے قبل امریکی فوج کی 101ویں ایئربورن ڈویژن کی قیادت بھی کر چکے ہیں۔رپورٹ کے مطابق وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ نے خفیہ معلومات افشا کرنے والوں کی شناخت کے لیے پینٹاگون میں خصوصی ٹاسک فورس قائم کر رکھی ہے اور اعلیٰ حکام کے پولی گراف ٹیسٹ بھی لیے جا رہے ہیں۔امریکی فوجی حکام ایران جنگ کے دوران فوجی منصوبہ بندی اور ہتھیاروں کے استعمال سے متعلق معلومات میڈیا تک پہنچنے پر تشویش کا اظہار کرتے رہے ہیں۔