ایران جنگ کے چھ ماہ، امریکا کو سیاسی و عسکری دباؤ کا سامنا

ایران جنگ کے چھ ماہ، امریکا کو سیاسی و عسکری دباؤ کا سامنا

واشنگٹن( مانیٹرنگ ڈیسک) ایران پر امریکا اور اسرائیل کے حملوں کو 6 ماہ مکمل ہوگئے، تاہم امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے مختصر قرار دی جانے والی جنگ تاحال جاری ہے۔ ایران نے ہتھیار نہیں ڈالے، آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت متاثر ہے اور تنازع کے خاتمے کا کوئی واضح راستہ دکھائی نہیں دیتا۔ٹرمپ کیلئے سیاسی مشکلات،جنگ کے دوران امریکی صدر کی مقبولیت میں کمی آئی۔ مختلف جائزوں کے مطابق ٹرمپ کی عوامی مقبولیت 40 فیصد سے گھٹ کر 33 فیصد تک آگئی، جبکہ صرف 31 فیصد امریکی جنگ کی حمایت کرتے ہیں۔ ایندھن کی بڑھتی قیمتوں اور مہنگائی نے بھی حکومت کیلئے مشکلات میں اضافہ کردیا ہے۔عالمی معیشت پر اثرات،آبنائے ہرمز میں کشیدگی کے باعث تیل کی قیمتیں بڑھیں اور عالمی اقتصادی ترقی متاثر ہونے کے خدشات پیدا ہوئے۔ عالمی مالیاتی ادارے نے معاشی نمو کا اندازہ کم کیا اور رواں سال عالمی معیشت کی شرح نمو 3 فیصد رہنے کی توقع ظاہر کی گئی ہے۔ایران کی دفاعی صلاحیت برقرار،جنگ سے ایران کی فوج اور معیشت کو شدید نقصان پہنچنے کے باوجود تہران اب بھی میزائل اور ڈرون حملوں کی صلاحیت رکھتا ہے۔ امریکی فوجی حکام کے مطابق ایران کے بیشتر فضائی دفاعی نظام کو نقصان پہنچایا گیا، تاہم ایران نے خطے میں بحری جہازوں اور امریکی تنصیبات کو نشانہ بنانے کی صلاحیت برقرار رکھی ہے۔جنگ کے نتیجے میں ہزاروں افراد ہلاک ہوئے جبکہ ایران میں معاشی مشکلات اور مہنگائی میں بھی نمایاں اضافہ ہوا۔ جولائی میں خوراک کی سالانہ مہنگائی 128 فیصد تک پہنچنے کا دعویٰ کیا گیا،مشرق وسطیٰ میں عدم استحکام،تجزیہ کاروں کے مطابق ایران کو علاقائی خطرہ بننے سے روکنے کیلئے شروع کی گئی جنگ کے نتیجے میں مشرق وسطیٰ مزید غیر محفوظ ہوگیا۔ ایرانی میزائل اور ڈرون حملوں سے خلیجی ممالک میں امریکی فوجی و سفارتی تنصیبات متاثر ہوئیں جبکہ فضائی سفر بھی متاثر ہوا۔ایرانی بحری جہازوں پر حملوں اور بحیرہ احمر میں حوثیوں کی کارروائیوں کے باعث نقل و حمل اور بیمہ اخراجات بڑھے، جس سے سپلائی چین اور خلیجی معیشتوں پر دباؤ بڑھا۔ایران کے جوہری پروگرام کو دھچکا،امریکی اور اسرائیلی حملوں سے ایران کی یورینیئم افزودگی کی اہم تنصیبات اور جوہری پروگرام سے متعلق بعض مقامات کو شدید نقصان پہنچا، جبکہ متعدد اہم جوہری سائنس دان بھی مارے گئے۔امریکی انٹیلی جنس جائزوں کے مطابق ایران کو جوہری ہتھیار کیلئے درکار افزودہ مواد تیار کرنے میں اب ایک سال تک لگ سکتا ہے، جو جنگ سے قبل تقریباً 6 ماہ سمجھا جاتا تھا۔ تاہم ایران کے جوہری ذخیرے اور پروگرام کی موجودہ صورتحال مکمل طور پر واضح نہیں، کیونکہ بین الاقوامی معائنہ کار تنصیبات تک رسائی حاصل نہیں کرسکے۔امریکی فوجی وسائل پر دباؤ،جنگ میں 18 امریکی فوجی ہلاک اور 750 سے زائد زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔ امریکی فوج نے ڈرونز اور طیارے بھی کھوئے، جبکہ جنگ کے دوران 42 امریکی فوجی طیاروں کے ضائع ہونے کا دعویٰ کیا گیا۔رپورٹس کے مطابق امریکا نے جدید میزائلوں کے اپنے ذخیرے کا بڑا حصہ استعمال کیا۔ جولائی تک پیٹریاٹ میزائلوں کے ذخیرے میں تقریباً 65 فیصد جبکہ تھاڈ میزائلوں میں کم از کم 38 فیصد کمی کا اندازہ لگایا گیا۔امریکا نے یورپ اور ایشیا بحرالکاہل سے جنگی طیارے، بحری جہاز اور دیگر فوجی وسائل مشرق وسطیٰ منتقل کیے، جس سے دنیا کے دوسرے خطوں میں امریکی دفاعی تیاریوں اور فوجی وسائل کی دستیابی پر بھی سوالات اٹھ رہے ہیں۔


© 2026 ترکیہ خبر. تمام حقوق محفوظ ہیں. ٹوگیدر میڈیا کی پیشکش.