بی جے پی کا نوجوان ووٹرز کیلئے میمز اور فلمی کرداروں کا سہارا
نئی دہلی( مانیٹرنگ ڈیسک)بھارتیہ جنتا پارٹی نے نوجوان ووٹرز، خصوصاً جنریشن زیڈ، تک رسائی بڑھانے کے لیے سماجی ذرائع ابلاغ پر روایتی سیاسی انداز کے بجائے میمز، کارٹون کرداروں، فلمی مناظر اور نوجوانوں کی عام بول چال استعمال کرنا شروع کردی۔بھارتی میڈیا کے مطابق بی جے پی کے صفحات پر اسپائیڈر مین، موٹو پتلو، جنگجو کرداروں اور فلمی مناظر کو سیاسی پیغامات کے ساتھ پیش کیا جارہا ہے۔ بعض مواد میں مصنوعی ذہانت سے تیار تصاویر کے ذریعے کانگریس رہنما راہول گاندھی کو بھی نشانہ بنایا گیا۔پارٹی کی نئی حکمت عملی میں مختصر عمودی ویڈیوز کو خاص اہمیت حاصل ہے۔ بی جے پی کے سوشل میڈیا شعبے کی نئی قیادت نے بھی انسٹاگرام کو ترجیح دینے کا عندیہ دیا ہے، کیونکہ نوجوانوں کی بڑی تعداد اس پلیٹ فارم سے وابستہ ہے۔پارٹی کے پیغامات میں نوجوانوں کی ڈیجیٹل زبان کے الفاظ بھی شامل کیے جارہے ہیں، تاکہ سیاسی مواد کو ان کے لیے زیادہ قابلِ قبول اور دلچسپ بنایا جاسکے۔دوسری جانب کانگریس بھی نوجوانوں سے رابطے کے لیے طلبہ کی تقریبات اور سماجی ذرائع ابلاغ کا استعمال بڑھا رہی ہے۔ بھارتی میڈیا کے مطابق جنریشن زیڈ ملک کی آبادی کا تقریباً ایک چوتھائی حصہ ہے، اسی لیے نوجوان ووٹرز دونوں بڑی جماعتوں کی سیاسی حکمت عملی میں اہم مقام حاصل کرچکے ہیں۔