سعودی عرب نے یورپ کیلئے تیل کی کچھ سپلائی منسوخ کردی

سعودی عرب نے یورپ کیلئے تیل کی کچھ سپلائی منسوخ کردی

ریاض( مانیٹرنگ ڈیسک)اہم آئل پائپ لائن پر ڈرون حملوں کے بعد سعودی عرب نے یورپ کیلئے تیل کی کچھ سپلائی منسوخ کردی، جس کے باعث بڑے خریداروں نے متبادل ذرائع سے تیل حاصل کرنے کی کوششیں شروع کردی ہیں۔خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق تجارتی ذرائع نے بتایا ہے کہ سعودی عرب نے یورپی صارفین کو آگاہ کیا ہے کہ ستمبر میں روانہ کیے جانے والے خام تیل کے بعض کارگو منسوخ کیے جائیں گے، جبکہ بحیرہ احمر کی بندرگاہ ینبع سے تیل کی لوڈنگ بھی روک دی گئی ہے۔یہ صورتحال سعودی عرب کی اہم ایسٹ ویسٹ آئل پائپ لائن کو ڈرون حملوں میں نقصان پہنچنے کے بعد پیدا ہوئی۔ سعودی عرب نے ان حملوں کا الزام عراقی ملیشیا پر عائد کیا ہے۔حملوں کے بعد سعودی حکام نے جمعہ کو مشرق سے مغرب تک صحرا میں قائم تیل کی پائپ لائن بند کردی۔ گزشتہ 6 ماہ کے دوران یہ پائپ لائن آبنائے ہرمز کی بندش کے اثرات سے سعودی تیل کی برآمدات کو بڑی حد تک محفوظ رکھنے میں مددگار رہی تھی۔رائٹرز کے مطابق بحیرہ احمر کے راستے سعودی تیل کی سپلائی میں کمی کے بعد یورپی خریدار، خصوصاً پولینڈ، متبادل ذرائع سے تیل حاصل کرنے کی کوششیں تیز کرنے پر مجبور ہوگئے ہیں۔تجارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ سعودی عرب اب آبنائے ہرمز کے راستے مزید تیل برآمد کرنے کی کوشش کرسکتا ہے، جس کیلئے نام نہاد ڈارک شپمنٹس استعمال کیے جانے کا امکان ہے، جیسا کہ متحدہ عرب امارات اور عراق پہلے ہی کررہے ہیں۔ذرائع کے مطابق ان خفیہ یا غیر روایتی شپمنٹس کے ذریعے خلیجی تیل پیدا کرنے والے ممالک جنگ سے پہلے کی سطح کے مقابلے میں تقریباً 70 لاکھ سے 90 لاکھ بیرل یومیہ تیل برآمد کرنے میں کامیاب رہے ہیں، جو جنگ سے قبل کے حجم کا تقریباً 30 سے 40 فیصد بنتا ہے۔


© 2026 ترکیہ خبر. تمام حقوق محفوظ ہیں. ٹوگیدر میڈیا کی پیشکش.