مظفر نگر فسادات، مسلم کش فسادات کو 13 برس مکمل

مظفر نگر فسادات، مسلم کش فسادات کو 13 برس مکمل

مظفر آباد( مانیٹرنگ ڈیسک) 27 اگست 2013 کو مظفر نگر میں پیش آنے والے المناک واقعے نے بھارت میں بدترین فرقہ وارانہ فسادات کی صورت اختیار کرلی۔مظفر نگر میں ریاستی سرپرستی میں سینکڑوں مسلمانوں کے قتل، خواتین کی مبینہ عصمت دری اور متعدد گھروں کو نذر آتش کیے جانے کے واقعات سامنے آئے۔ایک معمولی موٹر سائیکل حادثے کو مذہبی معاملہ بنا کر انتہا پسند ہندوؤں نے تقریباً 20 روز تک مسلمانوں کو تشدد کا نشانہ بنایا۔ فسادات میں سینکڑوں مسلمان جاں بحق اور زخمی ہوئے، جبکہ 50 ہزار سے زائد افراد بے گھر ہوگئے۔بھارتی سپریم کورٹ نے مظفر نگر فسادات کا براہِ راست ذمہ دار مرکزی اور ریاستی حکومتوں کو قرار دیا، جبکہ جسٹس وشنو سہائے کمیشن نے فسادات کی ذمہ داری بھارتیہ جنتا پارٹی اور سماج وادی پارٹی پر عائد کی۔انڈیا ٹوڈے کے مطابق فسادات کے دوران بھارتیہ جنتا پارٹی کے رہنما سنگیت سوم نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر جعلی ویڈیوز نشر کرکے انتہا پسند ہندوؤں کو تشدد پر اکسایا۔ 2022 میں بھارتیہ جنتا پارٹی کے رہنما وکرم سنگھ کو بھی مظفر نگر فسادات میں ملوث ہونے پر دو سال قید کی سزا سنائی گئی۔27 اگست 2013 کے مظفر نگر فسادات بھارت کے نام نہاد سیکولرازم پر ایسا داغ ہیں جو کبھی مٹ نہیں سکتا۔


© 2026 ترکیہ خبر. تمام حقوق محفوظ ہیں. ٹوگیدر میڈیا کی پیشکش.