آذربائیجان کے ’’درمیانی طاقت‘‘ کے کردار پر بین الاقوامی کانفرنس کا انعقاد
باکو (ترکیہ خبر) بین الاقوامی تعلقات کے تجزیاتی مرکز کی جانب سے ’’آذربائیجان بطور درمیانی طاقت: خارجہ پالیسی، علاقائی اثر و رسوخ اور عالمی کردار‘‘ کے موضوع پر ایک کانفرنس کا انعقاد کیا گیا۔رپورٹس کے مطابق کانفرنس کا انعقاد آذربائیجان کے صدر الہام علییف کے اس بیان کے تناظر میں کیا گیا، جس میں انہوں نے کہا تھا کہ آذربائیجان عالمی تعلقات کے نظام میں ایک ’’درمیانی طاقت‘‘ کے درجے تک پہنچ چکا ہے۔کانفرنس میں حالیہ برسوں کے دوران آذربائیجان کی جانب سے اختیار کی گئی متوازن، عملی اور قومی مفادات پر مبنی خارجہ پالیسی کے نتائج، شراکت داری کے فروغ اور کثیرالجہتی سفارت کاری کے میدان میں حاصل ہونے والی کامیابیوں کا نظری اور عملی جائزہ لیا گیا۔تقریب میں سرکاری اداروں، تھنک ٹینکس، جامعات، پارلیمنٹ کے اراکین، ماہرین، نوجوان محققین اور ذرائع ابلاغ کے نمائندوں نے شرکت کی۔بین الاقوامی تعلقات کے تجزیاتی مرکز کے بورڈ کے چیئرمین فرید شفییف کی زیرِ صدارت ’’درمیانی طاقت کا تصور اور آذربائیجان کا تجربہ‘‘ کے عنوان سے پہلے پینل میں اس تصور کی نظریاتی بنیادوں، آذربائیجان کے اس مقام تک پہنچنے میں کردار ادا کرنے والے عوامل اور ملک کی خارجہ پالیسی کے ارتقا پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔اس موقع پر اسٹریٹجک اور بین الاقوامی مطالعاتی مرکز کے ڈائریکٹر ایلدار نامازوف، بین الاقوامی تعلقات کے تجزیاتی مرکز کے سینئر مشیر سلطان زاہدوف اور توپچی باشوف مرکز کے ڈائریکٹر روسیف حسینوف نے ’’درمیانی طاقت‘‘ کے تصور، عالمی سیاست میں اس کی اہمیت، اور آذربائیجان کی متوازن سفارت کاری اور تزویراتی خودمختاری سے متعلق اپنے خیالات کا اظہار کیا۔