ترکیہ اور پولینڈ کا دفاعی اور اقتصادی تعاون مزید مضبوط بنانے پر اتفاق

ترکیہ اور پولینڈ کا دفاعی اور اقتصادی تعاون مزید مضبوط بنانے پر اتفاق

استنبول ( ترکیہ خبر) ترک صدر رجب طیب اردوان نے کہا ہے کہ ترکیہ اور پولینڈ یورپ کے دفاعی اور سکیورٹی نظام میں نیٹو کے دو اہم اتحادی ممالک کے طور پر باہمی تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے لیے کام کر رہے ہیں۔انقرہ میں پولینڈ کے صدر کیرول ناوروتسکی کے ہمراہ مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے رجب طیب اردوان نے کہا کہ 7 اور 8 جولائی کو ہونے والے نیٹو سربراہی اجلاس سے قبل نیٹو کے یورپی کردار کو مضبوط بنانا اور اتحاد کی دفاعی صلاحیت میں اضافہ دونوں ممالک کی مشترکہ ترجیحات ہیں۔انہوں نے کہا کہ ترکیہ یورپی اتحادی ممالک کے درمیان ذمہ داریوں کی منصفانہ تقسیم اور مضبوط بحرِ اوقیانوس پار تعلقات کو انتہائی اہم سمجھتا ہے۔ترک صدر نے یورپی یونین کے ساتھ باہمی مفاد کی بنیاد پر تعاون کو فروغ دینے کے عزم کا اظہار کرتے ہوئے ترکیہ کی یورپی یونین میں شمولیت کی حمایت پر پولینڈ کا شکریہ بھی ادا کیا۔انہوں نے بتایا کہ دونوں ممالک نے باہمی تجارتی حجم کے سابقہ 10 ارب ڈالر کے ہدف کے حصول کے بعد اب تجارت کا نیا ہدف 15 ارب ڈالر مقرر کیا ہے۔رجب طیب اردوان کے مطابق پولینڈ ان ممالک میں شامل ہے جہاں ترک تعمیراتی کمپنیاں بڑے پیمانے پر سرگرم ہیں اور وہاں تقریباً 9 ارب ڈالر مالیت کے منصوبوں پر کام جاری ہے۔انہوں نے دفاعی صنعت میں تعاون کو دونوں ممالک کے تعلقات کا اہم ستون قرار دیتے ہوئے ڈرونز اور دیگر دفاعی منصوبوں میں مشترکہ شراکت داری کا بھی ذکر کیا۔علاقائی صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے ترک صدر نے کہا کہ فلسطین اور مشرق وسطیٰ میں پائیدار امن کا قیام ایک اہم مسئلہ ہے جسے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔انہوں نے فلسطین کے معاملے پر دو ریاستی حل کی حمایت جاری رکھنے کی امید ظاہر کی اور کہا کہ پولینڈ ان ممالک میں شامل ہے جو فلسطینی ریاست کو تسلیم کر چکے ہیں۔ترک صدر کا مزید کہنا تھا کہ ملاقات میں روس یوکرین جنگ اور ایران سے متعلق حالیہ صورتحال پر بھی تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا اور دونوں رہنماؤں نے ان تنازعات کے پرامن حل کی ضرورت پر زور دیا۔

© 2026 ترکیہ خبر. تمام حقوق محفوظ ہیں. ٹوگیدر میڈیا کی پیشکش.