ہومر کی قدیم داستان "اوڈیسی" جدید فلمی انداز میں پردۂ سیمیں پر واپس
استنبول( کلچر ڈیسک) یونانی شاعر ہومر کی تقریباً 3 ہزار سال پرانی شہرۂ آفاق داستان "اوڈیسی" ایک بار پھر بڑے پردے پر پیش کی جا رہی ہے، جسے اب تک کی سب سے بڑی اور اہم فلمی تشکیل قرار دیا جا رہا ہے۔آسکر ایوارڈ یافتہ ہدایت کار کرسٹوفر نولان، جو "اوپن ہائمر"، "ڈنکرک" اور "دی ڈارک نائٹ" جیسی کامیاب فلموں کے لیے مشہور ہیں، نے اس تاریخی رزمیہ داستان کو بڑے پیمانے پر فلمایا ہے۔فلم میں قدیم یونانی بادشاہ کی کہانی دکھائی گئی ہے جو جنگ کے بعد اپنے وطن واپسی کے لیے طویل اور دشوار سفر کرتا ہے۔فلم کی ریلیز سے قبل اسے عالمی سطح پر خاصی توجہ حاصل ہوئی ہے۔ کاسٹنگ پر تنقید، مغربی صحارا میں فلم بندی اور قدیم ایرانی نوادرات سے متعلق بحث سمیت مختلف معاملات نے فلم کو پردے سے باہر بھی موضوعِ بحث بنا دیا ہے۔بڑے بجٹ سے تیار کی گئی یہ افسانوی ایکشن فلم جمعہ کو دنیا بھر کے سنیما گھروں میں ریلیز ہو رہی ہے، جس میں آئی میکس نمائش بھی شامل ہے۔ برطانیہ کے کئی بڑے اخبارات نے فلم کو شاندار جائزے دیتے ہوئے اسے پانچ ستاروں سے نوازا ہے۔