موسیقی اجتماعی یادوں کو محفوظ رکھنے کی طاقت رکھتی ہے: فاہر اتاک اوغلو
باکو( کلچر ڈیسک)معروف موسیقار اور پیانو نواز فاہر اتاک اوغلو نے کہا ہے کہ موسیقی اجتماعی یادوں کو محفوظ رکھنے اور معاشروں کو تلخ تاریخی واقعات پر غور کرنے میں مدد دینے کی صلاحیت رکھتی ہے۔خبر رساں ادارے سے گفتگو کرتے ہوئے فاہر اتاک اوغلو نے 2016 میں ہونے والی ناکام فوجی بغاوت کی دسویں برسی کے موقع پر اپنے فن پارے "15 جولائی کا رزمیہ" کے حوالے سے بات کی۔انہوں نے بتایا کہ یہ تخلیق ان تکلیف دہ حالات، دکھ اور صدمے سے متاثر ہو کر وجود میں آئی جن کا لوگوں نے اس واقعے کے دوران سامنا کیا۔فاہر اتاک اوغلو کا کہنا تھا کہ جب انہوں نے "15 جولائی کا رزمیہ" لکھا تو ان کی تمام تر توجہ عام لوگوں پر مرکوز تھی۔ انہوں نے سوچا کہ کس طرح لوگ ایک دوسرے کے مقابل کھڑے ہونے پر مجبور ہوئے اور کس طرح انتہائی دردناک مناظر دیکھنے کو ملے۔موسیقار کے مطابق اس تخلیق کا مقصد یہ امید پیدا کرنا تھا کہ ایسے المناک واقعات دوبارہ کبھی پیش نہ آئیں اور موسیقی کے ذریعے ماضی کے تجربات کو یاد رکھا جا سکے۔