میٹا پر الزام، ملازمین کی برطرفی کے لیے مصنوعی ذہانت کے استعمال کا دعویٰ
استنبول( ویب ڈیسک)ٹیکنالوجی کمپنی میٹا کے 26 سابق ملازمین نے کمپنی کے خلاف مقدمہ دائر کرتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ بڑے پیمانے پر ملازمین کی برطرفی کے عمل میں مصنوعی ذہانت (اے آئی) نظام استعمال کیا گیا۔مقدمہ امریکی ریاست کیلیفورنیا کے شہر اوکلینڈ میں دائر کیا گیا، جس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ میٹا نے مینیجرز کے فیصلوں کے بجائے مصنوعی ذہانت کے ذریعے ملازمین کی درجہ بندی، اسکورنگ اور انتخاب کیا تاکہ انہیں ملازمت سے فارغ کیا جا سکے۔یہ ملازمین ان تقریباً 8 ہزار افراد میں شامل ہیں جنہیں کمپنی نے رواں سال موسمِ بہار میں فارغ کرنے کا اعلان کیا تھا۔ یہ تعداد میٹا کی مجموعی افرادی قوت کا تقریباً 10 فیصد بنتی ہے۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ یہ اقدام مصنوعی ذہانت سے متعلق بڑے منصوبوں کے لیے وسائل مختص کرنے کی حکمت عملی کا حصہ ہے۔درخواست گزاروں نے الزام لگایا ہے کہ برطرفیوں کے عمل میں طبی رخصت، خاندانی چھٹی پر موجود ملازمین اور معذوری رکھنے والے افراد کو غیر متناسب طور پر نشانہ بنایا گیا۔مقدمے کے مطابق اے آئی نظام نے ملازمین کی کارکردگی کی درجہ بندی، پیداواری صلاحیت اور کام کے نتائج سے متعلق اعداد و شمار کو بنیاد بنایا، جبکہ ایسے ملازمین جو طبی یا خاندانی چھٹی پر ہوں ان کے لیے یہ پیمانے متاثر ہو سکتے ہیں۔دوسری جانب میٹا نے ان الزامات کی سختی سے تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ کمپنی کے فیصلے طے شدہ اصولوں اور جائز طریقہ کار کے تحت کیے گئے۔