ایف آئی آر سرکاری ملازمت سے نااہلی نہیں، وفاقی آئینی عدالت کے اہم اصول جاری

ایف آئی آر سرکاری ملازمت سے نااہلی نہیں، وفاقی آئینی عدالت کے اہم اصول جاری

اسلام آباد (تر کیہ خبر) وفاقی آئینی عدالت نے سرکاری ملازمتوں میں امیدواروں کے ماضی کی جانچ پڑتال سے متعلق 6 اہم آئینی اصول وضع کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ محض ایف آئی آر کا اندراج کسی شخص کو ملازمت کے لیے نااہل قرار دینے کی بنیاد نہیں بن سکتا۔چیف جسٹس وفاقی آئینی عدالت امین الدین خان نے تحریری فیصلے میں کہا کہ عدالتی بریت کو تسلیم کرنا ضروری ہے اور امیدوار کے کردار و اہلیت کا جائزہ مستند شواہد کی بنیاد پر لیا جائے۔ منفی کردار کی تصدیق قیاس آرائی کے بجائے قابلِ تصدیق حقائق پر ہونی چاہیے۔فیصلے کے مطابق بری ہونے کے بعد سابقہ مقدمے کو پولیس کریکٹر سرٹیفکیٹ میں منفی انداز سے ظاہر نہیں کیا جاسکتا، جبکہ زیرِ سماعت مقدمات کا ذکر صرف ان کی موجودہ قانونی حیثیت تک محدود رہے گا۔ کسی امیدوار کو سماعت کا موقع دیے اور معقول وجوہات بیان کیے بغیر عمومی طور پر بھرتی سے محروم نہیں کیا جاسکتا۔عدالت نے ڈرائیور کانسٹیبل کے عہدے پر درخواست گزار عبداللطیف کی نااہلی کا نوٹیفکیشن اور لاہور ہائیکورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا۔ عدالت نے واضح کیا کہ بریت کے باوجود ملازمت سے روکنا آئین کے آرٹیکل 4 اور 25 کے منافی ہے۔فیصلے میں درخواست گزار کو میرٹ لسٹ میں دوسری پوزیشن کے مطابق دوبارہ امیدوار تسلیم کرتے ہوئے 30 دن کے اندر طبی معائنہ اور دیگر قانونی تقاضے مکمل کرنے کے بعد تقرری کا حکم جاری کرنے کی ہدایت کی گئی۔عدالت کے مطابق درخواست گزار کو 2018 میں ایک مقدمے سے بری کیا جاچکا تھا اور اس کے پاس صاف پولیس کریکٹر سرٹیفکیٹ بھی موجود تھا، اس کے باوجود محکمہ پولیس نے اسے بھرتی کرنے سے انکار کردیا۔فیصلے میں کہا گیا کہ ڈی جی خان پولیس کے جاری کردہ کریکٹر سرٹیفکیٹ کو ٹھوس وجوہات کے بغیر نظرانداز نہیں کیا جاسکتا تھا۔ محکمے کا یہ اقدام قانونی بدنیتی اور اختیارات کے ناجائز استعمال کے مترادف تھا۔یہ اپیل لاہور ہائیکورٹ ملتان بینچ کے 22 مئی 2025 کے فیصلے کے خلاف دائر کی گئی تھی۔ درخواست گزار نے ڈرائیور کانسٹیبل کی میرٹ لسٹ میں دوسری پوزیشن حاصل کی تھی، تاہم بریت اور صاف کریکٹر سرٹیفکیٹ کے باوجود اس کی تقرری روک دی گئی تھی۔


© 2026 ترکیہ خبر. تمام حقوق محفوظ ہیں. ٹوگیدر میڈیا کی پیشکش.