پہلگام واقعے پر مودی حکومت کے سیاسی مفادات کے الزامات سامنے آگئے
نئی دہلی( مانیٹرنگ ڈیسک)پہلگام واقعے کے پسِ پردہ بھارتی حکومت کے سیاسی مفادات سے متعلق مختلف بھارتی شخصیات کے بیانات سامنے آئے ہیں۔ بھارتی صحافی اجے شکلا نے دعویٰ کیا ہے کہ واقعے کے ذریعے پاکستان کے خلاف بھارتی مؤقف کو تقویت دینے کی کوشش کی گئی، تاہم یہ مہم کامیاب نہ ہوسکی۔اجے شکلا کے مطابق متعدد بھارتی رہنما پہلے بھی ایسے واقعات میں حکومت کے کردار پر سوالات اٹھا چکے ہیں۔ ان کا دعویٰ ہے کہ مودی حکومت نے امیت شاہ کے بیٹے کے ہوٹل کی تعمیر اور زمینوں سے متعلق مفادات کے لیے یہ معاملہ کھڑا کیا۔ان کے مطابق بھارتی سیاستدان شنکر سنگھ واگھیلا بھی گجرات کے قتل عام کو مودی حکومت کی سازش قرار دے چکے ہیں، جبکہ مقبوضہ جموں و کشمیر کے شہریوں نے بھی پہلگام واقعے کو ایک منظم منصوبہ اور ڈرامہ قرار دیا۔بھارت میں مودی حکومت کے ناقدین پہلے بھی پہلگام واقعے سے متعلق سرکاری مؤقف کو مسترد کرتے رہے ہیں۔ بھارتی سکیورٹی امور کے ماہر ڈاکٹر اجے ساہنی نے بھی اسے ایک پہلے سے طے شدہ منصوبہ قرار دیا تھا۔مقبوضہ جموں و کشمیر کے سابق گورنر ستیا پال ملک نے مودی سے قوم سے معافی مانگنے اور عہدہ چھوڑنے کا مطالبہ کیا تھا، جبکہ سابق بھارتی رکن اسمبلی وجے تیواری نے بھی واقعے کی ذمہ داری بھارتی حکومت پر عائد کی تھی۔بھارتی گلوکارہ نیہا سنگھ راٹھور نے بھارتیہ جنتا پارٹی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے سوال اٹھایا کہ دہشتگردی کے واقعات زیادہ تر اسی حکومت کے دور میں کیوں پیش آتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پہلگام واقعے کے فوراً بعد پاکستان پر الزام عائد کیا گیا، تاہم بھارتی عوام حکومت کے ایسے اقدامات کو اندرونی مسائل سے توجہ ہٹانے کی کوشش قرار دے کر مسترد کرچکے ہیں۔