مشرقِ وسطیٰ میں امریکی فوجی موجودگی مزید مضبوط
واشنگٹن( مانیٹرنگ ڈیسک) امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) نے تصدیق کی ہے کہ باکسر ایمفیبیئس ریڈی گروپ اور اس کے ساتھ موجود گیارہواں میرین ایکسپیڈیشنری یونٹ اس وقت معمول کے طے شدہ مشن کے تحت مشرقِ وسطیٰ میں اپنی ذمہ داریاں انجام دے رہے ہیں، جس سے خطے میں امریکی فوجی موجودگی مزید مستحکم ہو گئی ہے۔سینٹکام کے بیان کے مطابق گیارہویں میرین ایکسپیڈیشنری یونٹ میں دو ہزار سے زائد میرین اہلکار شامل ہیں، جو زمینی، بحری اور فضائی کارروائیاں انجام دینے کے ساتھ ہنگامی حالات میں فوری ردعمل دینے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔امریکی حکام کے مطابق باکسر ایمفیبیئس ریڈی گروپ میں یو ایس ایس باکسر، یو ایس ایس پورٹ لینڈ اور یو ایس ایس کام اسٹاک شامل ہیں۔ ان میں سے یو ایس ایس پورٹ لینڈ حال ہی میں مشرقِ وسطیٰ پہنچی ہے، جبکہ یو ایس ایس کام اسٹاک مئی سے خطے میں تعینات ہے۔بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ نئی تعیناتی پہلے سے مشرقِ وسطیٰ میں موجود یو ایس ایس ٹرپولی، اس کے ہمراہ جنگی جہازوں اور میرین فورس کے ساتھ مل کر خطے میں امریکی بحری اور عسکری استعداد کو مزید مضبوط بنائے گی۔ یو ایس ایس ٹرپولی مارچ کے آخر سے خطے میں تعینات ہے۔دفاعی مبصرین کے مطابق مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی، اہم سمندری راستوں کے تحفظ اور علاقائی سلامتی کی صورتحال کے پیش نظر امریکا اپنی فوجی موجودگی برقرار رکھنے اور اسے مزید مضبوط بنانے کی حکمت عملی پر عمل پیرا ہے۔