واشنگٹن( مانیٹرنگ ڈیسک)امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ایلچی اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر نے جوہری امور سے متعلق ماہرین سے ملاقات کے لیے امریکی ریاست ٹینیسی کا دورہ کیا ہے۔میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی حکام کا کہنا ہے کہ ٹینیسی کے شہر اوک رج میں جوہری ماہرین کے ساتھ ہونے والی ملاقات کو فوری طور پر کسی حتمی معاہدے کی علامت نہیں سمجھا جانا چاہیے، تاہم یہ اس بات کا اشارہ ضرور ہے کہ مذاکرات انتہائی اہم اور حساس مرحلے میں داخل ہو چکے ہیں اور اس حوالے سے مکمل تیاری ضروری ہے۔واضح رہے کہ اوک رج یورینیم کی تیاری اور افزودگی کے لیے استعمال ہونے والی جدید ٹیکنالوجی کے ماہرین کا ایک اہم مرکز سمجھا جاتا ہے۔ رپورٹ کے مطابق اس ملاقات میں تقریباً ایک سو ماہرین پر مشتمل ٹیم نے شرکت کی۔مزید بتایا گیا ہے کہ گزشتہ ہفتے امریکی اور ایرانی حکام کے درمیان غیر رسمی بات چیت میں جنگ بندی میں توسیع، آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے، ایرانی تیل کی فروخت اور افزودہ یورینیم کے ذخائر سمیت مستقبل میں اس کی افزودگی کی حدود پر غور کیا گیا تھا۔ ان مذاکرات کے لیے ساٹھ روزہ مفاہمتی فریم ورک پر بھی اتفاق کیا گیا تھا۔