ایران کی ناکہ بندی، امریکا کا 130 تجارتی جہازوں کا رخ موڑنے کا دعویٰ
واشنگٹن( مانیٹرنگ ڈیسک) ایران کے خلاف جاری امریکی بحری ناکہ بندی کے دوران امریکی افواج نے مشرقِ وسطیٰ میں 130 تجارتی جہازوں کا رخ تبدیل کرانے کا دعویٰ کیا ہے۔امریکی سینٹرل کمانڈ کے مطابق ان کارروائیوں کا مقصد ایسے جہازوں کی نقل و حرکت روکنا تھا جو مبینہ طور پر امریکی احکامات کی خلاف ورزی کر رہے تھے یا ایران سے متعلق مشکوک سرگرمیوں میں ملوث تھے۔سینٹ کام کے مطابق 130 تجارتی جہازوں کو راستہ تبدیل کرنے پر مجبور کیا گیا، جبکہ تین ایسے جہازوں کو بھی ناکارہ بنایا گیا جنہوں نے مبینہ طور پر امریکی احکامات ماننے سے انکار کیا تھا۔امریکی فوج کے مطابق گزشتہ 12 ہفتوں کے دوران مجموعی طور پر 13 تجارتی جہاز تباہ کیے گئے۔ امریکی دعوے کے مطابق یہ جہاز یا تو بحری ناکہ بندی کی خلاف ورزی کر رہے تھے یا ایران کے پاسدارانِ انقلاب کے اربوں ڈالر مالیت کے خفیہ مالیاتی و تجارتی نیٹ ورک کا حصہ تھے۔امریکی حکام کا کہنا ہے کہ ایران پر عائد پابندیوں کے نفاذ اور سمندری راستوں کی نگرانی کے لیے خطے میں بحری کارروائیاں جاری ہیں، جن کے دوران تجارتی جہازوں کی شناخت، راستہ تبدیل کرنے کے احکامات اور مبینہ خلاف ورزیوں پر کارروائی کی جا رہی ہے۔ایران کے خلاف امریکی بحری اقدامات ایسے وقت میں جاری ہیں جب خلیج فارس، آبنائے ہرمز اور بحیرۂ عرب میں علاقائی کشیدگی کے باعث تجارتی جہازوں کی آمدورفت پہلے ہی متاثر ہے۔ ان سمندری راستوں سے عالمی سطح پر تیل اور دیگر اہم اشیا کی بڑی مقدار منتقل ہوتی ہے، اس لیے کسی بھی بحری محاذ آرائی سے عالمی تجارت اور توانائی کی منڈی متاثر ہوسکتی ہے۔تاہم امریکی فوج کے جانب سے تجارتی جہازوں کی تعداد، شناخت اور انہیں تباہ یا ناکارہ بنانے سے متعلق دعووں کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہوسکی، جبکہ ایرانی حکام کی جانب سے ان مخصوص دعووں پر ردعمل بھی سامنے نہیں آیا۔