تہران( مانیٹرنگ ڈیسک)ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ سید علی خامنہ ای کے مشیر برائے خارجہ امور ڈاکٹر علی اکبر ولایتی نے کہا ہے کہ وہ خوفناک خواب، جس سے مغربی حکمت عملیوں کو برسوں سے خدشہ تھا، اب حقیقت میں تبدیل ہو چکا ہے۔میڈیا رپورٹس کے مطابق ڈاکٹر علی اکبر ولایتی نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ پر کہا کہ مغرب کو جس ممکنہ تبدیلی کا خوف تھا، وہ اب سامنے آ رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ ایران مزید مضبوط ہو رہا ہے اور خطے کا اسٹریٹجک نقشہ دوبارہ تشکیل دیا جا رہا ہے۔ ان کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے لیے ایک عارضی معاہدے کی ضرورت پیش آ رہی ہے، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ "ایران پر دباؤ" کی پالیسی ناکامی کی طرف جا رہی ہے اور مزاحمتی قوتوں کا اثر بڑھ رہا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ جو عناصر خطے میں سمجھوتے کی امیدیں لگائے بیٹھے ہیں وہ ایک بڑی اسٹریٹجک غلطی کر رہے ہیں، کیونکہ مزاحمتی محاذ کو کمزور کر کے نیا طاقت کا توازن قائم نہیں کیا جا سکتا۔ڈاکٹر علی اکبر ولایتی نے کہا کہ سفارتی وعدوں کی بنیاد پر نہیں بلکہ طاقت کے توازن کے ساتھ ہی پائیدار امن ممکن ہے، جبکہ غیر حقیقی امیدوں پر انحصار کے سنگین نتائج نکل سکتے ہیں۔
مغرب کو جس ممکنہ تبدیلی کا خوف تھا، وہ اب سامنے آ رہی ہے: ایرانی حکام
واپس خبروں پر
Category:
عالمی خبریں