سوئٹزرلینڈ مذاکرات مفاہمتی یادداشت پر عمل درآمد سے مشروط:ایران کا مؤقف

سوئٹزرلینڈ مذاکرات مفاہمتی یادداشت پر عمل درآمد سے مشروط:ایران کا مؤقف

سوئٹزرلینڈ( مانیٹرنگ ڈیسک)سوئٹزرلینڈ میں شروع ہونے والے ایرانی اور امریکی مذاکرات کے التوا کے بعد تہران نے واضح کیا ہے کہ یہ بات چیت بدھ کی رات دونوں ممالک کے صدور کے درمیان طے پانے والی مفاہمتی یادداشت میں درج شرائط پر عمل درآمد سے مشروط تھی۔ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی کے مطابق حتمی معاہدے کے لیے مذاکرات کا انحصار اس بات پر ہے کہ پہلے مفاہمتی یادداشت کی مخصوص شقوں پر عمل درآمد شروع ہو اور وہ جاری رہے۔انہوں نے کہا کہ مفاہمتی یادداشت پر الیکٹرانک اور باضابطہ طور پر دستخط کیے گئے تھے، جس کے باعث سوئٹزرلینڈ میں طے شدہ اجلاس فی الحال غیر ضروری ہو گیا ہے۔اسماعیل بقائی نے بتایا کہ حتمی معاہدے کی تیاری کے لیے آئندہ مذاکرات سے متعلق مشاورت ثالثوں کے ذریعے جاری ہے، جبکہ مذاکرات کے آغاز کا اعلان اس وقت کیا جائے گا جب حالات سازگار ہوں گے۔ان کے مطابق مفاہمتی یادداشت کی متعدد شقوں پر عمل درآمد مذاکرات کے آغاز کے لیے بنیادی شرط ہے، جن میں مختلف سیاسی، معاشی اور سیکیورٹی نوعیت کے نکات شامل ہیں۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی کو بعض متاثرہ جوہری تنصیبات تک رسائی دینے کا معاملہ بھی آئندہ مذاکرات سے مشروط ہے۔ادھر شقوں کی تفصیلات کے مطابق اس معاہدے میں جنگ بندی، بحری راستوں کی صورتحال، تجارتی سہولتوں اور منجمد اثاثوں تک رسائی جیسے امور شامل ہیں۔دوسری جانب یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خطے میں کشیدگی میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے اور لبنان میں حالیہ فضائی حملوں کے باعث صورتحال مزید سنگین ہو گئی ہے، جہاں متعدد ہلاکتوں اور زخمیوں کی اطلاعات بھی موصول ہوئی ہیں۔

© 2026 ترکیہ خبر. تمام حقوق محفوظ ہیں. ٹوگیدر میڈیا کی پیشکش.