ایران میں سوگ، عالمی توانائی منڈی نئے مرحلے میں داخل
تہران( مانیٹرنگ ڈیسک) ایران میں سابق رہبر کی آخری رسومات کے دوران ملک کو سفارتی تعطل اور عالمی توانائی کی بدلتی صورتحال جیسے اہم چیلنجز کا سامنا ہے، جبکہ جنگ بندی کے بعد عالمی تیل کی منڈی بتدریج استحکام کی جانب بڑھ رہی ہے۔بین الاقوامی منڈیوں میں خام تیل کی قیمتیں جنگ سے قبل کی سطح کے قریب واپس آ چکی ہیں، خلیجی ممالک نے بند تیل کے کنوؤں کو دوبارہ فعال کرنا شروع کر دیا ہے اور آبنائے ہرمز سے تیل بردار جہازوں کی آمدورفت بھی معمول پر آ رہی ہے۔امریکی اخبار The Wall Street Journal کی رپورٹ کے مطابق اگرچہ منڈی میں فوری دباؤ کم ہوا ہے، تاہم مکمل استحکام کا انحصار عالمی خام تیل کے ذخائر کی بحالی پر ہے، جس میں کئی ماہ یا حتیٰ کہ برس بھی لگ سکتے ہیں۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ تیل کے ذخائر کی بحالی نہ صرف عالمی توانائی کی منڈی بلکہ امریکا اور ایران کے درمیان جاری سفارتی اور تزویراتی توازن پر بھی اثر انداز ہوگی۔رپورٹ کے مطابق دنیا بھر میں جتنی تیزی سے ممالک اپنے تیل کے ذخائر دوبارہ بھرنے میں کامیاب ہوں گے، اتنا ہی آبنائے ہرمز کے ذریعے عالمی توانائی کی رسد پر دباؤ ڈالنے کی ایران کی صلاحیت محدود ہوتی جائے گی، جس سے خطے میں طاقت کے توازن پر بھی اثر پڑ سکتا ہے۔تجزیہ کاروں کے مطابق جنگ بندی کے بعد توانائی کی منڈی میں آنے والا استحکام مستقبل میں امریکا اور ایران کے درمیان ممکنہ مذاکرات اور علاقائی سفارتکاری کی سمت متعین کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔