سپریم کورٹ: مرد عورتوں کے محافظ ہیں، قاتل نہیں — بیوی کو قتل کرنے والے شوہر کی اپیل مسترد

1 ماہ قبل
سپریم کورٹ: مرد عورتوں کے محافظ ہیں، قاتل نہیں — بیوی کو قتل کرنے والے شوہر کی اپیل مسترد

اسلام آباد( ترکیہ خبر) سپریم کورٹ نے بیوی کو قتل کرنے والے منشیات کے عادی شوہر وارث مسیح کی اپیل خارج کرتے ہوئے عمر قید کی سزا برقرار رکھی اور کہا کہ مرد عورتوں کے محافظ ہیں، قاتل نہیں۔جسٹس صلاح الدین پنہور اور جسٹس اشتیاق ابراہیم پر مشتمل بینچ نے تحریری فیصلہ جاری کیا، جس میں واضح کیا گیا کہ خواتین معاشرے کی برابر کی رکن ہیں اور وہ تحفظ، احترام اور وقار کی حقدار ہیں۔فیصلے میں کہا گیا کہ معاشرے میں خواتین کے ساتھ معمولی باتوں پر بہیمانہ تشدد اور جانوروں جیسا سلوک کیا جاتا ہے، اور منشیات کی لت خواتین پر ہونے والے وحشیانہ تشدد کی ایک بڑی وجہ ہے۔عدالت نے مزید کہا کہ کسی کو ماں، بہن، بیوی یا بیٹی کے مقدس رشتے کو خراب کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی، اور ریاست خواتین کے تحفظ کے لیے جامع قانون سازی، نفاذ کے طریقہ کار اور معاون پروگراموں کے ذریعے اقدامات کرے۔ خواتین کا تحفظ آئین کے آرٹیکل 9 (حقِ زندگی و آزادی) اور آرٹیکل 25 (برابری) کے تحت ریاست کی آئینی ذمہ داری ہے۔استغاثہ کے مطابق ملزم منشیات کا عادی تھا اور اپنی بیوی جمیلہ بی بی کے ساتھ اکثر جھگڑا کرتا تھا۔ 6 جولائی 2015 کی آدھی رات کو ملزم نے اپنی بیوی اور دو کمسن بچوں رمشا اور رمیش کو ڈنڈوں کے وار کر کے شدید زخمی کیا۔ اس المناک واقعے کی گواہ ملزم کی اپنی بیٹی رمشا وارث مسیح رہی، جس نے اپنے باپ کے خلاف چشم دید اور زخمی گواہ کے طور پر گواہی دی۔