مصنوعی ذہانت کی بڑھتی طلب، الیکٹرانک مصنوعات مہنگی ہونے لگیں
باکو( ویب ڈیسک) مصنوعی ذہانت کے ڈیٹا سینٹرز کی بڑھتی ہوئی طلب کے باعث میموری چپس کی دستیابی کم ہونے لگی ہے، جس کے نتیجے میں لیپ ٹاپ، اسمارٹ فون، گیمنگ کنسولز اور دیگر الیکٹرانک مصنوعات کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔نیدرلینڈز کے سرکاری نشریاتی ادارے کی رپورٹ کے مطابق مصنوعی ذہانت کے ڈیٹا سینٹرز کے لیے بڑی تعداد میں میموری چپس خریدی جا رہی ہیں، جس کے باعث عام صارفین کے لیے تیار کی جانے والی الیکٹرانک ڈیوائسز میں استعمال ہونے والی چپس کی فراہمی متاثر ہو رہی ہے۔ٹیکنالوجی ویب سائٹ ٹوئیکرز سے وابستہ ماہر ٹامس ہوخسٹن باخ نے کہا کہ ماضی میں نئی الیکٹرانک ڈیوائسز وقت کے ساتھ سستی ہوتی جاتی تھیں، لیکن اب صورتحال اس کے برعکس ہے۔ان کے مطابق صارفین آج ایک سال پہلے کے مقابلے میں زیادہ قیمت ادا کر کے نسبتاً کم صلاحیت والی ڈیوائس خریدنے پر مجبور ہیں۔ٹوئیکرز پرائس واچ کے اعداد و شمار کے مطابق میموری کی گنجائش کے لحاظ سے صارفین کو مختلف مصنوعات کے لیے 50، 100 اور بعض صورتوں میں 200 یورو تک اضافی رقم ادا کرنا پڑ رہی ہے، جس کی بنیادی وجہ میموری چپس کی بڑھتی ہوئی عالمی طلب ہے۔