ترکیہ میں سربرینیتسا نسل کشی کی 31ویں برسی پر تقریب
انقرہ( ترکیہ خبر) ترکیہ کی وزارتِ خارجہ میں سربرینیتسا نسل کشی کی 31ویں برسی کے موقع پر یادگاری تقریب کا انعقاد کیا گیا، جس میں متاثرین کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے انصاف اور تاریخی حقیقت کے تحفظ کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔تقریب میں ترکیہ کے نائب وزیر خارجہ اور یورپی امور کے ڈائریکٹر سفیر محمد کمال بوزائے اور بوسنیا و ہرزیگووینا کی ترکیہ میں سفیر میرسادا چولاکووچ سمیت دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔محمد کمال بوزائے نے اپنے خطاب میں کہا کہ 23 مئی 2024ء کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے 11 جولائی کو 1995ء کی سربرینیتسا نسل کشی کی یاد اور عالمی یومِ فکر کے طور پر منانے کی منظوری دی تھی۔انہوں نے بتایا کہ ترکیہ میں بھی صدارتی حکم نامے کے تحت 11 جولائی کو یومِ یادِ سربرینیتسا نسل کشی کے طور پر منایا جاتا ہے اور وزارتِ خارجہ میں 2024ء سے ہر سال اس حوالے سے یادگاری تقریبات منعقد کی جا رہی ہیں۔انہوں نے کہا کہ اس تقریب کا مقصد تاریخی حقیقت کو محفوظ رکھنا، انصاف کی جدوجہد کی حمایت کرنا اور انسانیت کے اجتماعی ضمیر سے وابستہ اس دردناک یاد کو آنے والی نسلوں تک منتقل کرنا ہے۔نائب وزیر خارجہ نے کہا کہ سربرینیتسا نسل کشی نہ صرف بوسنیا و ہرزیگووینا کی تاریخ بلکہ پورے یورپ اور انسانیت کی اجتماعی یادداشت کا ایک سیاہ ترین باب ہے۔انہوں نے کہا کہ 11 جولائی 1995ء کو یورپ کے قلب میں اقوام متحدہ کی جانب سے محفوظ قرار دیے گئے علاقے میں ہونے والا یہ المناک واقعہ نفرت، امتیازی سلوک اور انتہاپسند قوم پرستی کے تباہ کن نتائج کی واضح مثال ہے۔محمد کمال بوزائے نے اس بات پر زور دیا کہ بین الاقوامی عدالتِ انصاف اور سابق یوگوسلاویہ کے لیے قائم بین الاقوامی فوجداری ٹریبونل کے فیصلوں کے مطابق سربرینیتسا میں پیش آنے والا واقعہ قانونی اور غیر متنازع طور پر نسل کشی تھا۔انہوں نے کہا کہ اس حقیقت سے انکار کرنا یا اسے کسی علامتی کامیابی کے طور پر پیش کرنا انسانیت کے اجتماعی ضمیر کو مجروح کرنے کے مترادف ہے۔