ترک عوام کا جمہوریت کے لیے متحد ہونا انتہائی متاثر کن تھا، سابق برطانوی وزیر

ترک عوام کا جمہوریت کے لیے متحد ہونا انتہائی متاثر کن تھا، سابق برطانوی وزیر

لندن/استنبول( ترکیہ خبر) برطانیہ کے سابق وزیر سر ایلن ڈنکن نے کہا ہے کہ 15 جولائی 2016 کی ناکام بغاوت کی کوشش کے بعد ترکیہ کا دورہ کرنا اس لیے ضروری تھا تاکہ منتخب حکومت اور جمہوری اداروں کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا جا سکے۔سر ایلن ڈنکن، جو 2016 سے 2019 تک برطانیہ میں یورپ اور امریکہ کے امور کے وزیر مملکت رہے، نے ناکام بغاوت کی دسویں برسی کے موقع پر انادولو ایجنسی کے لندن دفتر میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ فتح اللہ دہشت گرد تنظیم (FETO) کی جانب سے کی گئی بغاوت کی کوشش کے فوراً بعد ترکیہ کا دورہ کرنے والے وہ پہلے یورپی سیاست دان تھے۔انہوں نے کہا کہ 15 جولائی 2016 کو جب وہ اپنے عہدے کے پہلے ہی دن تھے تو انہیں بغاوت کی کوشش کی اطلاع ملی۔ اس کے بعد انہوں نے اُس وقت ترکیہ میں برطانوی سفیر رچرڈ مور سے مشاورت کی اور ترکیہ کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کے لیے فوری طور پر انقرہ جانے کا فیصلہ کیا۔سر ایلن ڈنکن نے کہا کہ ترک عوام نے جس طرح متحد ہو کر اپنی رائے کا واضح اظہار کیا اور اپنے جمہوری نظام کے بنیادی اصولوں کا بھرپور دفاع کیا، وہ منظر انتہائی متاثر کن تھا۔انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ایسے نازک حالات میں منتخب حکومت اور جمہوری اداروں کی حمایت کا اظہار بین الاقوامی برادری کی اہم ذمہ داری ہوتی ہے۔


© 2026 ترکیہ خبر. تمام حقوق محفوظ ہیں. ٹوگیدر میڈیا کی پیشکش.