یورپی یونین کا کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا استعمال پر سخت پابندیاں عائد کرنے کا اعلان
باکو( ویب ڈیسک)برسلز: یورپی یونین نے 27 رکن ممالک میں کم عمر بچوں کی سوشل میڈیا تک رسائی محدود کرنے کے لیے نئے قوانین متعارف کرانے کا عندیہ دے دیا ہے، جسے آن لائن تحفظ کے حوالے سے اب تک کا سب سے بڑا اقدام قرار دیا جا رہا ہے۔یورپی کمیشن کی صدر اُرسولا فان ڈیر لیین نے کہا کہ بچوں کو آن لائن خطرات سے محفوظ رکھنے کے لیے مختلف عمر کے گروپوں کے لیے مرحلہ وار سوشل میڈیا تک رسائی کا نظام متعارف کرانے پر غور کیا جا رہا ہے۔انہوں نے زور دیا کہ تین سال سے کم عمر بچوں کو کسی بھی قسم کی اسکرین کے استعمال سے دور رکھا جانا چاہیے، جبکہ سوشل میڈیا تک رسائی بھی عمر کی مناسبت سے ہونی چاہیے۔اُرسولا فان ڈیر لیین نے کہا کہ جس طرح بچوں کو قانونی عمر سے پہلے گاڑی چلانے یا شراب خریدنے کی اجازت نہیں دی جاتی، اسی طرح سوشل میڈیا استعمال کے لیے بھی کم از کم عمر مقرر کی جانی چاہیے۔ ان کے بقول، اصل سوال یہ نہیں کہ بچے سوشل میڈیا استعمال کریں یا نہیں، بلکہ یہ ہے کہ سوشل میڈیا کو بچوں تک کب اور کیسے رسائی دی جائے۔انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر موجود "لامحدود اسکرولنگ" جیسے فیچرز کو بچوں کے لیے نشہ آور قرار دیتے ہوئے کہا کہ ٹیکنالوجی کمپنیوں کو ایسے عناصر پر قابو پانا ہوگا۔دریں اثنا، بچوں کے آن لائن تحفظ سے متعلق یورپی یونین کے خصوصی پینل نے سفارش کی ہے کہ 13 سال سے کم عمر بچوں کو اس وقت تک سوشل میڈیا تک رسائی نہ دی جائے جب تک متعلقہ کمپنیاں یہ ثابت نہ کر دیں کہ ان کے پلیٹ فارم بچوں کے لیے محفوظ ہیں۔رپورٹ میں یہ بھی تجویز دی گئی ہے کہ 13 سال سے زائد عمر کے بچوں کے لیے بھی احتیاطی بنیادوں پر مزید عمر کی پابندیوں پر غور کیا جائے، جبکہ سوشل میڈیا کمپنیوں پر لازم ہو کہ وہ اپنے پلیٹ فارمز کی حفاظت ثابت کریں، نہ کہ اس کی ذمہ داری والدین، بچوں یا ریگولیٹرز پر ڈالی جائے۔یاد رہے کہ آسٹریلیا، برطانیہ، ترکیہ، انڈونیشیا اور دیگر کئی ممالک پہلے ہی 15 یا 16 سال سے کم عمر بچوں کے لیے ٹک ٹاک، انسٹاگرام، یوٹیوب اور دیگر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے استعمال پر مختلف پابندیاں نافذ کر چکے ہیں۔