مذہب اور سفارت کاری امن کے فروغ میں اہم کردار ادا کرسکتے ہیں: فخرالدین آلتون
استنبول( تر کیہ خبر) ویٹی کن میں ترکیہ کے سفیر فخرالدین آلتون نے کہا ہے کہ مذہب اور سفارت کاری مختلف پس منظر رکھنے والے لوگوں کے درمیان مکالمے، انسانی وقار اور باہمی بقائے باہمی کو فروغ دے کر امن کے قیام میں اہم کردار ادا کرسکتے ہیں۔فخرالدین آلتون نے ’’کریتا پولیٹیکا‘‘ نامی تنظیم کی جانب سے منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے سوال کیا کہ کیا انسانیت اختلافات برقرار رکھتے ہوئے بھی ایک دوسرے کے ساتھ امن سے رہنا سیکھ سکتی ہے؟انہوں نے کہا کہ جنگوں، نقل مکانی، عدم مساوات اور عالمی اداروں پر اعتماد کے بحران کے موجودہ ماحول میں یہ سوال خصوصی اہمیت اختیار کرگیا ہے۔ترک سفیر کے مطابق دنیا کو صرف سیاسی اور جغرافیائی سیاسی بحرانوں کا سامنا نہیں بلکہ ایک انسانی اور اخلاقی بحران بھی درپیش ہے۔ جدید صارفیت پر مبنی ثقافت میں انسان کی شناخت تیزی سے اس کی ملکیت، استعمال کی جانے والی اشیا اور خواہشات کے ذریعے متعین کی جارہی ہے۔فخرالدین آلتون نے کہا کہ مذہبی روایات انسانیت کے بارے میں اس کے برعکس تصور پیش کرتی ہیں، جس میں ذمہ داری، قربانی، مقصد اور اپنی ذات کی حدود سے آگے بڑھنے کی صلاحیت کو اہمیت دی جاتی ہے۔انہوں نے کہا کہ مذہبی روایات موجودہ دور میں انسان کو محدود انداز میں دیکھنے والے تصور کیلئے ایک گہرا اخلاقی چیلنج بھی پیش کرتی ہیں۔قرآن مجید کا حوالہ دیتے ہوئے فخرالدین آلتون نے کہا کہ انسانی وقار ہر شخص کا حق ہے، خواہ اس کی سیاسی شناخت، قومیت یا نسلی تعلق کچھ بھی ہو۔انہوں نے قرآن میں بیان کردہ ’’لتعارفوا‘‘ کے تصور کا بھی حوالہ دیا، جس کا مفہوم ’’تاکہ تم ایک دوسرے کو پہچانو‘‘ ہے۔ ان کے مطابق اختلافات کو تنازع کی وجہ سمجھنے کے بجائے ایک دوسرے سے ملاقات، فہم اور باہمی تعارف کا ذریعہ سمجھنا چاہیے۔