پوتن کا روس یوکرین معاہدے پر اظہارِ امید، میدان جنگ میں شکست ناممکن قرار
ماسکو( مانیٹرنگ ڈیسک) روسی صدر ولادیمیر پوتن نے کہا ہے کہ روس اور یوکرین کے درمیان معاہدہ طے پانا ممکن ہے، کیونکہ دونوں ملکوں کے عوام کے درمیان گہرے تاریخی اور ثقافتی روابط ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ روس تنازع کا پُرامن حل چاہتا ہے، تاہم روس کو میدان جنگ میں شکست دینا یا اسٹریٹجک طور پر ناکام بنانا ممکن نہیں۔روسی ٹی وی چینل کو انٹرویو دیتے ہوئے صدر پوتن نے کہا کہ روسی اور یوکرینی عوام درحقیقت ایک ہی قوم سے تعلق رکھتے ہیں اور دونوں ممالک کے درمیان اختلافات مذاکرات کے ذریعے دور کیے جاسکتے ہیں۔ انہوں نے معاہدے تک پہنچنے کے امکان پر اعتماد کا اظہار کیا۔یوکرین کے بعض علاقوں سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے پوتن نے دعویٰ کیا کہ جن علاقوں کو یوکرین کے علاقائی نقصانات کے طور پر بیان کیا جاتا ہے، وہ تاریخی طور پر روس کا حصہ رہے ہیں۔ ان کے مطابق ان علاقوں کے رہائشیوں نے پہلے خودمختاری کے حق میں ووٹ دیا اور بعد ازاں روسی فیڈریشن میں دوبارہ شامل ہونے کا فیصلہ کیا، اس لیے انہیں یوکرین کا علاقائی نقصان قرار دینا درست نہیں۔روسی صدر نے یورپی ممالک کی روس مخالف پالیسیوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یورپ میں روس کی جانب سے ممکنہ خطرات اور اس کے ساتھ جنگ کی تیاریوں کے حوالے سے مسلسل بیانات دیے جارہے ہیں۔ انہوں نے ان رویوں کو ’’سیاسی شیزوفرینیا‘‘ قرار دیا۔پوتن نے واضح کیا کہ روس نہ تو یورپ کے ساتھ جنگ چاہتا ہے اور نہ ہی اس کی تیاری کررہا ہے۔ ان کے بقول روس کو میدان جنگ میں شکست دینے یا اسٹریٹجک نقصان پہنچانے کا تصور حقیقت پسندانہ نہیں۔انہوں نے کہا کہ تاریخ میں روس کو اسٹریٹجک شکست دینے کی کوشش کرنے والے ممالک کو موجودہ عالمی حقائق کا ادراک کرنا چاہیے اور یہ سمجھنا چاہیے کہ روس کے ساتھ دوستانہ تعلقات ان کے اپنے عوام کے مفاد میں ہیں۔ پوتن کے مطابق یورپ میں جاری سیاسی صورت حال بھی ظاہر کرتی ہے کہ وہاں کے عوام روس کے ساتھ جنگ کے خواہاں نہیں۔یوکرینی قیادت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے روسی صدر نے الزام لگایا کہ کیف حکومت توقع کرتی ہے کہ عالمی برادری اسے مالی وسائل فراہم کرنے کے ساتھ جنگ لڑنے اور ہتھیاروں، گولہ بارود اور فوجی سازوسامان کی فراہمی کی ذمہ داری بھی اٹھائے۔پوتن نے مزید دعویٰ کیا کہ بعض یورپی ممالک روس کو کمزور کرنے کے لیے اس کے خلاف جنگ جاری رکھنا چاہتے ہیں، جبکہ یوکرینی قیادت اپنے شہریوں کو جنگ میں استعمال ہونے والے وسائل کی طرح برت رہی ہے۔روسی صدر نے الزام عائد کیا کہ یوکرین میں شہریوں کو سڑکوں سے پکڑ کر زبردستی محاذ جنگ پر بھیجا جارہا ہے۔ انہوں نے سرکاری اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ فوج سے فرار ہونے والے اہلکاروں کی تعداد پانچ لاکھ تک پہنچ چکی ہے، جبکہ اس حوالے سے تین لاکھ سے زائد فوجداری مقدمات بھی درج کیے گئے ہیں۔