تبت میں 7.1 شدت کا زلزلہ، 16 افراد ہلاک، پاکستان کی مدد کی پیشکش
بیجنگ( مانیٹرنگ ڈیسک) چین کے علاقے تبت میں 7.1 شدت کے شدید زلزلے کے نتیجے میں کم از کم 16 افراد ہلاک اور 65 زخمی ہوگئے، جبکہ سیکڑوں مکانات منہدم ہونے کے بعد امدادی کارروائیاں جاری ہیں۔ پاکستان نے بھی متاثرین کی مدد کی پیشکش کردی ہے۔زلزلے سے تبت کے شمالی شہر ناگچو میں کم از کم 339 مکانات تباہ ہوئے۔ حکام کو خدشہ ہے کہ ملبے تلے افراد دبے ہونے کے باعث ہلاکتوں میں مزید اضافہ ہوسکتا ہے۔متاثرہ علاقوں میں امدادی سرگرمیوں کے لیے ایک ہزار 600 سے زائد اہلکار تعینات کیے گئے ہیں۔ متاثرین کی عارضی رہائش کے لیے ایک ہزار عارضی مکانات اور تقریباً 3 ہزار خیمے بھی روانہ کیے گئے ہیں، جبکہ امدادی سامان میں فولڈنگ بیڈز، خوراک، ٹارچیں اور سردی سے بچاؤ کے لیے کپڑے شامل ہیں۔امریکی جیولوجیکل سروے کے مطابق زلزلہ چینی وقت کے مطابق رات 10 بج کر 33 منٹ پر آیا۔ اس کا مرکز ناگچو شہر سے 191 کلومیٹر شمال مشرق میں تھا، جبکہ زمین کی سطح سے اس کی گہرائی 18 کلومیٹر ریکارڈ کی گئی۔شدید زلزلے کے بعد 4.3 سے 5.2 شدت کے کم از کم سات آفٹر شاکس بھی محسوس کیے گئے۔چینی خبر رساں ادارے کے مطابق زلزلے سے بعض علاقوں میں مواصلاتی نظام متاثر ہوا، جبکہ ریلوے حکام نے احتیاطی تدابیر کے تحت متاثرہ علاقے سے گزرنے والی ٹرینوں کی آمدورفت عارضی طور پر روک دی۔زلزلے کے نتیجے میں لینڈ سلائیڈنگ بھی ہوئی، جس کے باعث قومی شاہراہ 317 کا ایک حصہ بند کردیا گیا۔ اس راستے پر فی الحال صرف امدادی اور سرکاری گاڑیوں کو گزرنے کی اجازت ہے۔ متاثرہ علاقے میں آئندہ تین روز کے دوران وقفے وقفے سے برف باری کا امکان بھی ظاہر کیا گیا ہے۔رپورٹس کے مطابق یہ گزشتہ پانچ برس کے دوران اس علاقے میں آنے والا سب سے شدید زلزلہ ہے۔چینی صدر شی جن پنگ نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی ہے کہ متاثرین کو بچانے اور زخمیوں کو فوری طبی امداد فراہم کرنے کے لیے تمام ضروری اقدامات کیے جائیں۔واضح رہے کہ ناگچو شہر تبت کے دارالحکومت لہاسا سے 300 کلومیٹر سے زیادہ شمال میں واقع ہے۔