مہمند ڈیم کی لاگت میں 115 فیصد اضافہ، تخمینہ 666 ارب روپے تک پہنچ گیا
اسلام آباد( تر کیہ خبر) پاکستان میں زیرِ تعمیر مہمند ڈیم ہائیڈرو پاور منصوبے کی لاگت میں گزشتہ آٹھ برس کے دوران 115 فیصد اضافہ ہوگیا ہے، جس کے بعد اس کی نظرثانی شدہ لاگت 666 ارب روپے مقرر کرنے کی تجویز پیش کی گئی ہے۔سرکاری حکام کے مطابق منصوبے کی لاگت بڑھنے کی بنیادی وجوہات میں ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر میں کمی، ڈیزائن میں تبدیلیاں، 2022 کے سیلاب اور سکیورٹی سے متعلق مسائل شامل ہیں۔ ان عوامل نے نہ صرف منصوبے کے اخراجات بڑھائے بلکہ اس کی تکمیل میں بھی تاخیر کا سبب بنے۔حکام کے مطابق واٹر اینڈ پاور ڈویلپمنٹ اتھارٹی (واپڈا) نے منصوبے کی نظرثانی شدہ لاگت 666 ارب روپے کرنے کی تجویز دی ہے۔ یہ معاملہ رواں ہفتے سینٹرل ڈیولپمنٹ ورکنگ پارٹی (سی ڈی ڈبلیو پی) کے اجلاس میں پیش کیا گیا، تاہم وقت کی کمی کے باعث اس پر فیصلہ نہیں ہوسکا۔سی ڈی ڈبلیو پی بڑے ترقیاتی منصوبوں کی منظوری کے عمل کا ابتدائی فورم ہے، جہاں سے منظوری کے بعد منصوبہ حتمی فیصلے کے لیے ایگزیکٹو کمیٹی آف نیشنل اکنامک کونسل (ایکنک) کو بھیجا جاتا ہے۔مہمند ڈیم کی لاگت اپریل 2018 میں 310 ارب روپے منظور کی گئی تھی، جبکہ اسے ستمبر 2025 تک مکمل کرنے کا ہدف مقرر تھا۔ اب اس کی لاگت میں مزید 356 ارب روپے اضافے کی تجویز دی گئی ہے۔لاگت میں اضافے کا بڑا سبب روپے کی قدر میں کمیپلاننگ کمیشن کے حکام کے مطابق واپڈا نے آگاہ کیا ہے کہ منصوبے کی مجموعی لاگت میں اضافے کا تقریباً 51 فیصد حصہ ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر میں کمی کی وجہ سے ہے۔ منصوبے میں مقامی اور غیر ملکی کرنسی دونوں میں اخراجات شامل ہیں، جس کے باعث شرحِ تبادلہ میں تبدیلیوں نے غیر ملکی اخراجات کی روپے میں مالیت بڑھا دی۔پلاننگ کمیشن نے واپڈا سے ڈالر میں طے شدہ معاہدوں کے تحت ادائیگیوں کی تفصیلات اور شرحِ تبادلہ میں تبدیلیوں کے مالی اثرات کی وضاحت بھی طلب کی ہے۔کمیشن کے مطابق غیر ملکی کرنسی میں طے شدہ معاہدوں کی رقم کو صرف موجودہ شرحِ تبادلہ کے مطابق روپے میں تبدیل کرنا کافی نہیں۔ اس مقصد کے لیے معاہدوں کی شرائط، ادائیگیوں کی اصل ذمہ داریوں اور شرحِ تبادلہ سے متعلق شقوں کا تفصیلی جائزہ لینا ضروری ہے۔تعمیراتی اور بجلی پیدا کرنے والے حصے کے اخراجات بڑھ گئےدستاویزات کے مطابق نظرثانی شدہ تخمینے میں ڈیم کے تعمیراتی حصے کی لاگت 267 ارب روپے تجویز کی گئی ہے، جو ابتدائی تخمینے کے مقابلے میں 153 ارب روپے یا 134 فیصد زیادہ ہے۔اسی طرح بجلی پیدا کرنے والے حصے کی لاگت بڑھ کر 399 ارب روپے ہوگئی ہے، جس میں ابتدائی تخمینے کے مقابلے میں 204 ارب روپے، یعنی 105 فیصد اضافہ ہوا ہے۔دستاویزات کے مطابق گزشتہ ماہ تک منصوبے پر مجموعی طور پر 275 ارب روپے خرچ کیے جاچکے تھے، جبکہ تعمیراتی کام تقریباً 57 فیصد مکمل ہوا تھا۔مہمند ڈیم کی تعمیر چینی کمپنی چائنا گیزوبا گروپ کمپنی لمیٹڈ اور پاکستان کی ڈیسکون انجینئرنگ لمیٹڈ مشترکہ طور پر کر رہی ہیں۔2022 کے سیلاب سے تعمیراتی کام متاثر ہوامنصوبے کی انتظامیہ کے مطابق 2022 میں دریائے سوات میں آنے والے شدید سیلاب کے باعث پانی کا رخ موڑنے کے لیے تعمیر کی گئی سرنگوں کو نقصان پہنچا، جس سے تعمیراتی سرگرمیاں طویل عرصے تک متاثر رہیں۔پلاننگ کمیشن نے منصوبے میں تاخیر اور اخراجات میں اضافے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے مالی اور تعمیراتی پیش رفت کا تیسرے فریق سے جائزہ کرانے کی سفارش کی ہے۔ کمیشن نے منصوبے کے لیے نظرثانی شدہ مالی منصوبہ تیار کرنے کی تجویز بھی دی ہے۔مہمند ڈیم کی تکمیل سے پاکستان کی پانی ذخیرہ کرنے کی مجموعی صلاحیت میں 12 لاکھ 90 ہزار ایکڑ فٹ اضافے کی توقع ہے۔