آن لائن پیسے مانگنے والوں کو رقم منتقل نہ کریں، خواتین تصاویر شیئر کرنے سے گریز کریں: محسن نقوی
لاہور( تر کیہ خبر) وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے عوام کو خبردار کیا ہے کہ اگر کوئی آن لائن رقم مانگے تو تصدیق کے بغیر ہرگز پیسے منتقل نہ کریں۔ انہوں نے خواتین اور لڑکیوں پر بھی زور دیا کہ وہ اپنی تصاویر کسی کے ساتھ شیئر کرنے سے گریز کریں، کیونکہ سائبر جرائم پیشہ افراد تصاویر اور ویڈیوز میں ردوبدل کرکے انہیں بلیک میل کرتے ہیں۔لاہور میں نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) کی کھلی کچہری سے خطاب کرتے ہوئے محسن نقوی نے کہا کہ آن لائن فراڈ کرنے والوں کے خلاف گھیرا تنگ کیا جائے گا اور عوام میں آگاہی بڑھائی جائے گی تاکہ وہ دھوکا دہی سے محفوظ رہ سکیں۔انہوں نے کہا کہ اگر کوئی شخص خود کو بیمار یا کسی مصیبت میں مبتلا ظاہر کرکے آن لائن رقم طلب کرے تو تصدیق کیے بغیر پیسے نہ بھیجے جائیں۔ ماؤں اور بہنوں سے اپیل ہے کہ اپنی تصاویر کسی کے ساتھ شیئر نہ کریں، کیونکہ ملزمان تصاویر اور ویڈیوز کو جعلی انداز میں تیار کرکے خواتین کو بلیک میل کرتے ہیں۔وزیر داخلہ نے کہا کہ بلیک میلنگ کے بعض واقعات میں لڑکیوں نے خودکشی بھی کی ہے، جبکہ سائبر کرائم کے اداروں کو لڑکیوں کو ہراساں کرنے سے متعلق سب سے زیادہ شکایات موصول ہوتی ہیں۔لاہور میں کال سینٹرز کے خلاف کارروائی، 600 افراد گرفتارمحسن نقوی نے بتایا کہ لاہور میں کال سینٹرز کے خلاف کارروائیوں کے دوران 10 سے 12 روز میں 600 افراد کو گرفتار کیا گیا، جبکہ اسلام آباد اور دیگر شہروں میں کی جانے والی کارروائیاں اس کے علاوہ ہیں۔انہوں نے کہا کہ اگر آئندہ دو سے تین برس میں سائبر جرائم سے نمٹنے کے لیے مناسب تیاری نہ کی گئی تو یہ ایک بڑا مسئلہ بن سکتے ہیں۔ ان کے مطابق سائبر جرائم میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے اور پولیسنگ کا بڑا حصہ بھی اب اسی شعبے کی جانب منتقل ہورہا ہے۔وزیر داخلہ نے بتایا کہ متعلقہ اداروں کو مزید فعال کیا جارہا ہے اور شکایات لے کر آنے والے شہریوں کے مسائل حل کرنے کے لیے عملے کی کمی دور کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس وقت پنجاب بھر میں این سی سی آئی اے کے پاس صرف 61 اہلکار ہیں، تاہم سائبر پولیس کو مزید متحرک کیا جائے گا۔خیبرپختونخوا میں بلوے کی کوششوں کا دعویٰایک سوال کے جواب میں محسن نقوی نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں متعدد افراد نے حکومت کے خلاف بلوہ کرانے اور عوام کو حکومت کے خلاف کھڑا کرنے کی کوشش کی۔ ان کے مطابق ان میں سے کئی افراد کے خلاف مقدمات بھی درج کیے گئے ہیں۔