پاکستان کی لیبیا میں ثالثی کوششیں، مفاہمتی منصوبہ زیر غور

پاکستان کی لیبیا میں ثالثی کوششیں، مفاہمتی منصوبہ زیر غور

 اسلام آباد ( ترکیہ خبر) پاکستان نے لیبیا کے مشرقی اور مغربی دھڑوں کے درمیان جاری اختلافات ختم کرانے کے لیے خاموش سفارتی کوششوں کا آغاز کر دیا ہے۔برطانوی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق پاکستانی ذرائع کا کہنا ہے کہ اگر اسلام آباد کی یہ سفارتی کوششیں کامیاب ہو جاتی ہیں تو عالمی سطح پر پاکستان کا سفارتی کردار مزید نمایاں ہو سکتا ہے۔ پاکستان کی جانب سے یہ اقدام ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکہ بھی کئی ماہ سے لیبیا کے سیاسی بحران کے حل کے لیے سفارتی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے۔لیبیا 2011 میں سابق حکمران معمر قذافی کی حکومت کے خاتمے کے بعد سے مشرقی اور مغربی انتظامی دھڑوں میں تقسیم ہے، جس کے باعث ملک میں سیاسی عدم استحکام برقرار ہے۔پاکستانی ذرائع کے مطابق اسلام آباد کی ثالثی کا عمل گزشتہ سال کے اختتام پر شروع ہوا، جبکہ لیبیا کے دونوں متحارب فریقوں نے پاکستان سے اس معاملے میں کردار ادا کرنے کی درخواست کی تھی۔ذرائع کے مطابق امریکہ اس سفارتی عمل سے مکمل طور پر آگاہ ہے اور اس میں شامل ہے، جبکہ سعودی عرب بھی پاکستان کی کوششوں کی حمایت کر رہا ہے۔پاکستان اس سے قبل امریکہ اور ایران کے درمیان رواں سال ہونے والی سفارتی رابطہ کاری میں بھی اہم کردار ادا کر چکا ہے، جس کا اعتراف امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ متعدد مواقع پر کر چکی ہے۔برطانوی خبر رساں ادارے کے مطابق پاکستان کی وزارت خارجہ، فوج کے شعبہ تعلقات عامہ، لیبیا کی مشرقی و مغربی انتظامیہ، قطر، ترکی، سعودی عرب اور امریکی وزارت خارجہ نے اس معاملے پر فوری طور پر کوئی ردعمل ظاہر نہیں کیا۔رپورٹ کے مطابق لیبیا کو دوبارہ متحد کرنے کے منصوبے کے خلاصے میں ملک میں 36 ماہ پر مشتمل عبوری حکومتی نظام قائم کرنے کی تجویز زیر غور ہے۔ اس منصوبے کے تحت قومی اتفاق رائے کی حکومت اور صدارتی کونسل پر مشتمل مشترکہ عبوری ڈھانچہ تشکیل دیا جائے گا۔مجوزہ منصوبے کے مطابق اقوام متحدہ کی حمایت یافتہ مغربی حکومت کے وزیراعظم عبدالحمید الدبیبہ عبوری وزیراعظم کے طور پر ذمہ داریاں جاری رکھیں گے، جبکہ مشرقی لیبیا کی فوج کے نائب کمانڈر صدام حفتر کو صدارتی کونسل کا سربراہ مقرر کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔


© 2026 ترکیہ خبر. تمام حقوق محفوظ ہیں. ٹوگیدر میڈیا کی پیشکش.