انقرہ نیٹو کے مستقبل اور سلامتی پالیسی کی سمت طے کرے گا: ہاکان فیدان
انقرہ (ترکیہ خبر) ترکیہ کے وزیر خارجہ ہاکان فیدان نے کہا ہے کہ انقرہ میں ہونے والا نیٹو سربراہی اجلاس اتحاد کے مستقبل کی تشکیل اور بدلتے ہوئے پیچیدہ سیکیورٹی ماحول کے مطابق اس کے ڈھانچے کو بہتر بنانے میں مددگار ثابت ہوگا۔دو روزہ اجلاس کے آغاز کے موقع پر سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر جاری بیان میں ہاکان فیدان نے کہا کہ صدر رجب طیب اردوان کی قیادت میں ترکیہ نیٹو اتحادی ممالک کی میزبانی کے لیے تیار ہے۔انہوں نے کہا کہ انقرہ میں ہونے والا اجلاس نیٹو کے مستقبل کے تعین کے حوالے سے اہم موقع ہے، جہاں کیے جانے والے فیصلے صرف فوری چیلنجز سے نمٹنے تک محدود نہیں ہوں گے بلکہ آنے والے برسوں میں یورپ اور بحر اوقیانوس کے خطے کی سلامتی کے ماحول پر بھی اثر انداز ہوں گے۔ہاکان فیدان نے کہا کہ اجتماعی دفاع اب بھی نیٹو کا بنیادی مقصد ہے، تاہم موجودہ اسٹریٹجک ماحول تیزی سے تبدیل ہو رہا ہے کیونکہ خطرات اب زیادہ وسیع، تیز رفتار اور پیچیدہ نوعیت اختیار کر چکے ہیں۔انہوں نے کہا کہ روایتی پیمانے اب ان حالات کی مکمل عکاسی نہیں کرتے، جبکہ موجودہ دور میں اہم چیز قابلِ تعین دفاعی صلاحیت، صنعتی استعداد اور عملی تیاری ہے۔ترک وزیر خارجہ نے کہا کہ نیٹو کے لیے یورپ کی جانب سے زیادہ مضبوط کردار ادا کرنا ضروری ہے، تاہم دفاعی صنعت میں تعاون پر عائد پابندیاں کارکردگی کو متاثر کرتی اور ردعمل کی رفتار کو سست کرتی ہیں۔انہوں نے کہا کہ یہ رکاوٹیں اسٹریٹجک کمزوریاں بن چکی ہیں، جبکہ یورپی دفاعی اقدامات میں نیٹو کے تمام رکن ممالک کو شامل رکھا جانا چاہیے۔ہاکان فیدان نے مزید کہا کہ اتحاد کو تعاون کے طریقہ کار پر بھی نظرثانی کرنا ہوگی۔ ان کے مطابق اصل سوال صرف یہ نہیں کہ چیلنجز کا جواب کیسے دیا جائے بلکہ یہ بھی ہے کہ موجودہ حالات کے مطابق تعاون کو کس طرح منظم کیا جائے۔انہوں نے کہا کہ انقرہ سربراہی اجلاس نیٹو کو دنیا کو درپیش موجودہ صورتحال کے مطابق اپنے ڈھانچے کو بہتر بنانے کی سمت رہنمائی فراہم کرے گا۔ترک وزیر خارجہ نے کہا کہ ترکیہ کا مقصد واضح ہے، یعنی ایک زیادہ متحد، مؤثر اور مضبوط نیٹو اتحاد کا قیام۔