آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت کے تحفظ کیلئے ممکنہ تعاون پر نیٹو اجلاس
برسلز( مانیٹرنگ ڈیسک) نیٹو کے اعلیٰ کمانڈر نے رکن ممالک کے نمائندوں کے ساتھ اجلاس میں آبنائے ہرمز سے بحری جہازوں کی آزادانہ اور محفوظ آمدورفت یقینی بنانے کیلئے ممکنہ تعاون پر غور کیا ہے۔نیٹو کے سپریم الائیڈ کمانڈر کے ترجمان کے مطابق اجلاس میں ان ممالک کے دفاعی حکام شریک ہوئے جو آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت کے تحفظ میں کردار ادا کرنے میں دلچسپی رکھتے ہیں، تاہم یہ اقدام نیٹو کے باقاعدہ مشن کا حصہ نہیں ہوگا۔ترجمان نے بتایا کہ نیٹو نے رکن ممالک کو یکجا کرنے اور ان کی فوجی صلاحیتوں کا جائزہ لینے کیلئے رابطہ کاری کا کردار ادا کیا ہے۔ رکن ممالک ایران کے ساتھ تنازع میں براہ راست مداخلت سے گریز کرتے ہوئے نیٹو کے دائرہ کار سے باہر آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے امکانات پر غور کر رہے ہیں۔فرانس اور برطانیہ تقریباً 12 ممالک پر مشتمل اتحاد بنانے کی کوشش کر رہے ہیں، جس کا مقصد کشیدگی کم ہونے یا تنازع ختم ہونے کے بعد آبنائے ہرمز میں جہازوں کی محفوظ نقل و حرکت یقینی بنانا ہے۔واضح رہے کہ فروری میں لڑائی شروع ہونے سے قبل عالمی سطح پر تجارت ہونے والے تقریباً پانچواں حصے کے تیل کی ترسیل آبنائے ہرمز کے راستے ہوتی تھی۔