بھارت میں ووٹر فہرستوں سے کروڑوں نام خارج، مودی حکومت پر تنقید

بھارت میں ووٹر فہرستوں سے کروڑوں نام خارج، مودی حکومت پر تنقید

نئی دہلی (مانیٹرنگ ڈیسک) بھارت میں جمہوری نظام کی صورتحال پر سوالات اٹھنے لگے، جبکہ عالمی ذرائع ابلاغ نے وزیراعظم نریندر مودی کی حکومت پر سخت تنقید کرتے ہوئے اس کے طرزِ حکمرانی اور انتخابی عمل پر تحفظات ظاہر کیے ہیں۔غیر ملکی میڈیا رپورٹس میں مودی حکومت کے سخت اقدامات، کروڑوں شہریوں کے حقِ رائے دہی کو درپیش خطرات اور جمہوریت کے حوالے سے کیے جانے والے دعوؤں پر سوالات اٹھائے گئے ہیں۔امریکی جریدے ٹائمز کے مطابق ووٹر فہرستوں سے نام نکالے جانے کے خلاف بھارت کے مختلف علاقوں میں ہزاروں افراد احتجاج کے لیے سڑکوں پر نکل آئے۔ رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا کہ ووٹر فہرستوں سے 13 کروڑ نام خارج کیے جانے کے معاملے پر عوامی غم و غصے میں اضافہ ہو رہا ہے۔مظاہرین نے الزام عائد کیا کہ ووٹر فہرستوں میں تبدیلیوں سے مودی اور بھارتیہ جنتا پارٹی کو فائدہ پہنچانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ احتجاج میں شریک افراد نے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار سے مستعفی ہونے کا مطالبہ بھی کیا۔ دوسری جانب بھارتی حکام نے مظاہرین کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے نئی دہلی میں نوجوان رہنماؤں کو حراست میں لے لیا۔احتجاج کرنے والوں کا کہنا تھا کہ مودی حکومت ذاتی سیاسی مفادات کے لیے شہریوں سے ووٹ کا حق چھین کر اور جمہوری آزادیوں پر پابندیاں لگا کر نوجوان نسل کی آواز دبانے میں کامیاب نہیں ہو سکتی۔


© 2026 ترکیہ خبر. تمام حقوق محفوظ ہیں. ٹوگیدر میڈیا کی پیشکش.