ترکیہ نے امریکا سے 100 تاریخی نوادرات واپس حاصل کرلیے، استنبول میں نمائش کا افتتاح

ترکیہ نے امریکا سے 100 تاریخی نوادرات واپس حاصل کرلیے، استنبول میں نمائش کا افتتاح

استنبول (ترکیہ خبر) ترکیہ نے امریکا سے اپنے 100 قیمتی تاریخی نوادرات واپس حاصل کرلیے، جنہیں استنبول کے آثارِ قدیمہ عجائب گھر میں منعقدہ تقریب کے دوران باضابطہ طور پر پیش کیا گیا۔تقریب میں وزیر ثقافت و سیاحت مہمت نوری ارسوئے اور مین ہٹن کے معاون ضلعی اٹارنی میتھیو بوگدانوس نے شرکت کی۔ اس موقع پر ’’کوئی فرار نہیں: بوبون‘‘ کے عنوان سے نمائش کا افتتاح بھی کیا گیا، جس میں تاریخی ورثے کی غیر قانونی اسمگلنگ روکنے کے لیے ترکیہ کی کوششوں کو اجاگر کیا گیا۔واپس ملنے والے نوادرات میں توکات کے علاقے ہوروز تپے سے تعلق رکھنے والی 40 تاریخی اشیا شامل ہیں، جن کا تعلق 2300 سے 2000 قبل مسیح کے دور سے ہے۔ اس کے علاوہ بوردور کے علاقے دیور سے ملنے والے 44 مٹی کے تعمیراتی پینل، جن کا زمانہ 700 سے 480 قبل مسیح ہے، اور قدیم شہر افروڈیسیاس کا ایک مجسمہ نما پورٹریٹ بھی شامل ہے۔ دیگر اشیا میں تھیٹر کے نقاب اور دیویوں کے چھوٹے مجسمے شامل ہیں۔مہمت نوری ارسوئے نے نوادرات کی بازیابی میں سائنسی تحقیق، تاریخی دستاویزات اور بین الاقوامی تعاون کو اہم قرار دیا۔ انہوں نے ان اشیا کی اصل شناخت میں محققین، صحافیوں اور مقامی باشندوں کی خدمات کو بھی سراہا۔نمائش میں بوبون شہر سے تعلق رکھنے والے کانسی کے مجسموں کو خصوصی اہمیت دی گئی ہے۔ یہ مجسمے 1960 کی دہائی میں غیر قانونی کھدائی کے ذریعے نکالے گئے تھے اور بعد ازاں مختلف ممالک کے ذخائر اور مجموعوں میں تقسیم ہوگئے تھے۔پروفیسر جالے عنان کی سربراہی میں ہونے والی تحقیق اور آثارِ قدیمہ کے سائنسی تجزیوں سے ان مجسموں کی اصل شناخت ممکن ہوئی، جس کے نتیجے میں انہیں ترکیہ واپس لانے کی راہ ہموار ہوئی۔


© 2026 ترکیہ خبر. تمام حقوق محفوظ ہیں. ٹوگیدر میڈیا کی پیشکش.