ایران کا سات نکاتی منصوبہ امریکا کو پہنچا دیا گیا: عراقچی
تہران (مانیٹرنگ ڈیسک) ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ قطر کے ذریعے ایران کا سات نکاتی منصوبہ امریکا تک پہنچا دیا گیا ہے اور اب تہران امریکی جواب کا منتظر ہے۔نیویارک سے تہران روانگی سے قبل گفتگو کرتے ہوئے عباس عراقچی نے کہا کہ قطری ثالث کے ذریعے مذاکرات میں ایران کا مؤقف امریکی حکام تک پہنچا دیا گیا ہے، توقع ہے کہ وائٹ ہاؤس کا جواب منگل کو ثالثوں کے ذریعے ایران کو موصول ہوگا۔ان کا کہنا تھا کہ ایران کا مقصد امریکی فریق کو اپنی شرائط سے آگاہ کرنا اور عالمی برادری کو یہ بتانا تھا کہ تہران کے پاس مسئلے کے حل کے لیے ایک منصوبہ موجود ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایران کی پیش کردہ شرائط منصفانہ اور منطقی ہیں اور اگر امریکا معاہدے یا پُرامن حل کا خواہاں ہے تو ایران نے اس کے لیے راستہ پیش کردیا ہے۔ایرانی وزیر خارجہ نے ان قیاس آرائیوں کی بھی تردید کی جن میں کہا جا رہا تھا کہ ایران اپنے جوہری پروگرام پر مؤقف میں لچک دکھانے کے لیے تیار ہوگیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران کے مؤقف میں کوئی تبدیلی نہیں آئی اور آبنائے ہرمز کھولنے سے متعلق تہران کی شرائط واضح ہیں۔عباس عراقچی نے کہا کہ گزشتہ چند گھنٹوں کے دوران مختلف ذرائع ابلاغ میں ایران کے حوالے سے متعدد دعوے کیے گئے، تاہم ان میں بیان کردہ باتیں درست نہیں۔ایرانی وزیر خارجہ صدر مسعود پزشکیان اور دیگر اعلیٰ سفارت کاروں کے ہمراہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کے لیے نیویارک گئے تھے۔عراقچی نے دورے کے نتائج کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس سے ظاہر ہوا کہ ایران امریکا اور اسرائیل کی جانب سے پیش کیے جانے والے تاثر کے برعکس تنہا نہیں بلکہ اسے عالمی سطح پر احترام حاصل ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ مختلف ملاقاتوں کے دوران یہ بات سامنے آئی کہ متعدد ممالک کے عوام اور حکام ایران کے اقدامات اور مزاحمت کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔