خواجہ آصف کی نئے صوبوں پر پیپلز پارٹی پر تنقید، اختیارات نچلی سطح تک منتقلی پر زور

خواجہ آصف کی نئے صوبوں پر پیپلز پارٹی پر تنقید، اختیارات نچلی سطح تک منتقلی پر زور

اسلام آباد( تر کیہ خبر) وزیر دفاع خواجہ آصف نے نئے صوبوں اور انتظامی یونٹس کے قیام کے معاملے پر پاکستان پیپلز پارٹی کے مؤقف کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر اپنے بیان میں خواجہ آصف نے کہا کہ پیپلز پارٹی پنجاب میں الگ سرائیکی صوبے کے مطالبے کی بظاہر حمایت کرتی ہے، لیکن جب ملک کے انتظامی نظام میں وسیع تبدیلی کی بات آتی ہے تو سندھودیش کا معاملہ سامنے لے آتی ہے۔وزیر دفاع نے پیپلز پارٹی کے اس مؤقف کو متضاد قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کے خیال میں اس کے پیچھے کوئی اور وجہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ مناسب وقت پر اپنے خدشات کی وضاحت کریں گے۔خواجہ آصف نے زور دیا کہ قومی شناخت کو سب سے زیادہ اہمیت دی جانی چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستانی قوم کی شناخت سب سے مقدم ہے۔انہوں نے 18ویں آئینی ترمیم کے تحت اختیارات کو نچلی سطح تک منتقل کرنے کے اصول پر مؤثر عمل درآمد کی ضرورت پر بھی زور دیا۔ ان کے مطابق 18ویں ترمیم میں اختیارات کی منتقلی کا اصول موجود ہے، تاہم عملی طور پر اختیارات اب بھی اوپر کی سطح پر مرکوز ہیں۔وزیر دفاع نے کہا کہ جمہوریت کو مضبوط بنانے اور عوام کو سرکاری اداروں اور بنیادی خدمات تک براہ راست رسائی دینے کے لیے اختیارات کو نچلی انتظامی سطح تک منتقل کرنا ضروری ہے۔خواجہ آصف نے تجویز دی کہ ملک کے موجودہ 36 ڈویژنوں کو انتظامی نظام کی ازسرنو تشکیل کے لیے بنیاد بنایا جاسکتا ہے۔ ان کے مطابق جغرافیائی بنیادوں پر کوئی دوسرا انتظامی ماڈل بھی زیر غور لایا جاسکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ اختیارات کو نچلی سطح تک منتقل کرنا بالآخر ناگزیر ہے اور اس کے بغیر مؤثر انتظامی نظام قائم نہیں کیا جاسکتا۔دوسری جانب چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری کی صدر مملکت آصف علی زرداری سے طویل ملاقات ہوئی۔ ملاقات میں بختاور بھٹو زرداری بھی موجود تھیں اور ان کے بچے بھی ان کے ہمراہ تھے۔ذرائع کے مطابق ملاقات تقریباً پانچ گھنٹے جاری رہی۔ اس دوران ملکی سیاسی اور مجموعی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا، جبکہ فریال تالپور کی حالیہ تقریر بھی زیر بحث آئی۔ملاقات کے اختتام پر بلاول بھٹو زرداری اور بختاور بھٹو زرداری اپنی رہائش گاہ روانہ ہوگئے۔


© 2026 ترکیہ خبر. تمام حقوق محفوظ ہیں. ٹوگیدر میڈیا کی پیشکش.