ترکیہ کا شام کے کیمیائی ہتھیاروں کے خاتمے کی کوششوں کا خیر مقدم
استنبول( تر کیہ خبر) اقوام متحدہ میں ترکیہ کے مستقل نمائندے احمد یلدز نے شام کی جانب سے کیمیائی ہتھیاروں کے مسئلے کو عالمی برادری کے تعاون سے حل کرنے کی کوششوں کو سراہا ہے۔اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے احمد یلدز نے شام کے کیمیائی ہتھیاروں کے خاتمے کے معاملے کو سابق حکومت کے دور کا ایک سنگین ورثہ قرار دیا، تاہم انہوں نے کہا کہ اب اس معاملے میں امید کی واضح وجہ موجود ہے۔انہوں نے کہا کہ ترکیہ کا پختہ یقین ہے کہ کیمیائی ہتھیاروں کے مسئلے پر دیرپا پیش رفت شام کے ساتھ عملی، مرحلہ وار اور بہتر رابطے کے ذریعے ہی ممکن ہے۔ اس عمل میں شام کی موجودہ زمینی صورتحال کو بھی مدنظر رکھنا ضروری ہے۔احمد یلدز نے کیمیائی ہتھیاروں پر پابندی کی عالمی تنظیم کی انتظامی کونسل کے جولائی میں کیے گئے اس فیصلے کا خیرمقدم کیا جس کے تحت شام کے تنظیم میں حقوق اور مراعات بحال کردی گئی ہیں۔انہوں نے کیمیائی ہتھیاروں سے متعلق تنصیبات کی جانچ پڑتال کے حوالے سے ہونے والے حالیہ معاہدوں کا بھی خیرمقدم کیا۔ترک نمائندے نے شام میں کیمیائی ہتھیاروں کے تیسرے درجے کے مواد کو تلف کرنے کے لیے تنظیم کی فنی ٹیم بھیجے جانے کو بھی اہم قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ ترکیہ اس ٹیم کی رپورٹ کا منتظر ہے۔احمد یلدز نے کہا کہ کیمیائی مواد کی شناخت، اسے محفوظ بنانے اور تلف کرنے کے لیے تیار کرنے میں اب بھی کئی مشکلات موجود ہیں۔ ان کے مطابق ان مشکلات کی ایک وجہ سابق حکومت کے خفیہ کیمیائی ہتھیاروں کے پروگرام کی نوعیت بھی ہے۔