یومِ شہدائے کشمیر: صدر اور وزیراعظم کا 1931ء کے شہداء کو خراجِ عقیدت
اسلام آباد( ترکیہ خبر) یومِ شہدائے کشمیر کے موقع پر صدر مملکت آصف علی زرداری اور وزیراعظم محمد شہباز شریف نے 13 جولائی 1931ء کے 22 کشمیری شہداء کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کشمیری عوام کے حقِ خودارادیت کی حمایت کا اعادہ کیا۔صدر مملکت آصف علی زرداری نے اپنے پیغام میں کہا کہ کشمیری عوام کی قربانیاں تاریخ کا روشن باب ہیں اور پاکستان ان کے حقِ خودارادیت کی سیاسی، سفارتی اور اخلاقی حمایت جاری رکھے گا۔انہوں نے بھارت سے مطالبہ کیا کہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں ظلم و جبر، انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں اور آبادی کا تناسب تبدیل کرنے کی کوششیں فوری طور پر بند کی جائیں، تمام سیاسی قیدیوں کو رہا کیا جائے اور فوجی محاصرہ ختم کیا جائے۔صدر مملکت نے کہا کہ 5 اگست 2019ء کے بھارتی یکطرفہ اقدامات غیر قانونی تھے، جبکہ عالمی برادری کو مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کے تحفظ اور مسئلہ جموں و کشمیر کے اقوام متحدہ کی قراردادوں اور کشمیری عوام کی خواہشات کے مطابق حل کے لیے مؤثر کردار ادا کرنا چاہیے۔انہوں نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ شہدائے کشمیر کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے۔دوسری جانب وزیراعظم محمد شہباز شریف نے اپنے پیغام میں کہا کہ 13 جولائی 1931ء کے شہداء کی قربانیاں کشمیری عوام کی جدوجہد کا روشن باب ہیں اور یومِ شہدائے کشمیر عزم، حوصلے اور استقامت کی علامت ہے۔وزیراعظم نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں جاری ہیں، تاہم کشمیری عوام اپنے حقِ خودارادیت کے لیے ثابت قدم ہیں۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پاکستان کشمیری عوام کی سیاسی، سفارتی اور اخلاقی حمایت ہر سطح پر جاری رکھے گا۔انہوں نے مزید کہا کہ حکومت پاکستان جموں و کشمیر کے شہداء کی عظیم قربانیوں کو سلام پیش کرتی ہے اور کشمیری عوام کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اعادہ کرتی ہے۔