تل ابیب( مانیٹرنگ ڈیسک)اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کی جانب سے میزائل فائر کیے گئے ہیں، تاہم ان کے مطابق تمام میزائلوں کو راستے میں ہی روک لیا گیا۔خطے میں صورتحال اس وقت مزید کشیدہ ہو گئی جب اردن کے بعض علاقوں میں سائرن بجنے لگے، جبکہ پاسداران انقلاب نے دعویٰ کیا کہ انہوں نے اسرائیلی فوجی اہداف کو بیلسٹک میزائلوں سے نشانہ بنایا ہے۔پاسداران انقلاب کے مطابق جنگ بندی اس شرط پر قبول کی گئی تھی کہ تمام محاذوں پر فائرنگ بند رہے گی، تاہم ان کے بقول امریکا اور اسرائیل نے اپنی ذمہ داریاں پوری نہیں کیں۔ ایران کی جانب سے خبردار کیا گیا ہے کہ اگر اسرائیل نے لبنان پر حملے بند نہ کیے تو اس کے نتائج مزید سخت ہوں گے۔دوسری جانب اسرائیلی ردعمل کے حوالے سے ذرائع کا کہنا ہے کہ اسرائیل جلد ایران کے خلاف جوابی کارروائی کر سکتا ہے۔ایرانی سپریم لیڈر کے مشیر محسن رضائی نے کہا ہے کہ جنگ بندی کی خلاف ورزی اور لبنان پر حملوں کو برداشت نہیں کیا جائے گا، اور حملہ آوروں کو اس کا جواب دیا جا رہا ہے۔سینئر ایرانی ذرائع کے مطابق اگر اسرائیل نے دوبارہ حملہ کیا تو خطے میں موجود تمام امریکی اڈے بھی نشانہ بن سکتے ہیں۔ اسی دوران ایران کے مغربی علاقوں کی فضائی حدود غیر معینہ مدت کے لیے بند کر دی گئی ہیں، جبکہ عراق نے بھی اپنی فضائی حدود عارضی طور پر بند کر دی ہے۔شام نے بھی جنوبی فضائی حدود کو بارہ گھنٹوں کے لیے بند کرتے ہوئے دمشق ایئرپورٹ پر پروازوں کی معطلی کا اعلان کیا ہے۔ادھر خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو بھی صورتحال سے آگاہ کر دیا گیا ہے۔
ایران اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی میں اضافہ، میزائل حملوں اور جوابی دعوؤں کا تبادلہ
واپس خبروں پر
Category:
عالمی خبریں