پائیدار امن کے لیے بین الاقوامی قانون اور انسانی حقوق ناگزیر ہیں، سیونج فتح علی یوا

پائیدار امن کے لیے بین الاقوامی قانون اور انسانی حقوق ناگزیر ہیں، سیونج فتح علی یوا

باکو( ترکیہ خبر) آذربائیجان کی قومی اسمبلی (ملی مجلس) کی رکن سیونج فتح علی یوا نے کہا ہے کہ جمہوریت، انسانی حقوق اور انسانی ہمدردی کے امور کو بین الاقوامی قانون اور ان مشترکہ اصولوں سے الگ نہیں کیا جا سکتا جو کئی دہائیوں سے او ایس سی ای خطے میں امن، سلامتی اور تعاون کی بنیاد رہے ہیں۔انہوں نے یہ بات نیدرلینڈز کے شہر دی ہیگ میں منعقدہ او ایس سی ای پارلیمانی اسمبلی کے 33ویں سالانہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہی، جہاں "بین الاقوامی قانون اور مشترکہ اصول: او ایس سی ای خطے میں سلامتی اور تعاون کی بنیاد" کے موضوع پر تبادلہ خیال کیا گیا۔سیونج فتح علی یوا نے کہا کہ خطہ اس وقت مسلح تنازعات، انسانی بحرانوں، جبری نقل مکانی اور بڑھتی ہوئی تقسیم جیسے سنگین چیلنجز سے دوچار ہے، جو نہ صرف اداروں بلکہ مشترکہ اصولوں سے وابستگی کا بھی امتحان ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ دیرپا امن صرف سیاسی یا عسکری ذرائع سے ممکن نہیں بلکہ اس کے لیے بین الاقوامی قانون کا احترام، مضبوط ادارے، انسانی حقوق کا مؤثر تحفظ اور مسلسل مکالمہ ضروری ہے۔انہوں نے کہا کہ جمہوریت مضبوط اداروں، انسانی حقوق مؤثر تحفظ اور انسانی ہمدردی یکجہتی پر قائم ہے، جبکہ ان تمام عناصر کی بنیاد بین الاقوامی قانون کے احترام پر ہے۔ ان کے مطابق مشترکہ اصولوں پر غیر جانبدارانہ، مستقل اور دیانت دارانہ عمل ہی رکن ممالک کے درمیان اعتماد کو فروغ دے سکتا ہے۔آذربائیجان کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ یہ اصول محض نظریاتی تصورات نہیں بلکہ پائیدار امن کے قیام اور عوام کی زندگی میں حقیقی بہتری لانے کے لیے عملی رہنمائی فراہم کرتے ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ آذربائیجان نے ثابت کیا ہے کہ تنازعات کے بعد بحالی کا عمل صرف بنیادی ڈھانچے کی تعمیر تک محدود نہیں بلکہ انسانی وقار کی بحالی، مقامی آبادی کو مضبوط بنانے اور لوگوں کے لیے امن و سلامتی کے ساتھ زندگی گزارنے کے مواقع پیدا کرنے کا نام بھی ہے۔


© 2026 ترکیہ خبر. تمام حقوق محفوظ ہیں. ٹوگیدر میڈیا کی پیشکش.