پہلی بار ہائی کورٹس کے ججوں کی تقرری کے لیے امیدواروں کے انٹرویوز مکمل
اسلام آباد( ترکیہ خبر) جوڈیشل کمیشن نے ملک کی اعلیٰ عدلیہ کی تاریخ میں پہلی مرتبہ ہائی کورٹ کے ججوں کی تقرری کے لیے امیدواروں کے باقاعدہ انٹرویوز کا آغاز کر دیا۔جسٹس حسن اظہر رضوی کی سربراہی میں قائم سات رکنی کمیٹی نے اسلام آباد ہائی کورٹ اور بلوچستان ہائی کورٹ کے ایڈیشنل ججوں کی تقرری کے لیے مجموعی طور پر 27 امیدواروں کے انٹرویوز کیے۔اس سے قبل جوڈیشل کمیشن نے اسلام آباد ہائی کورٹ میں تین جبکہ بلوچستان ہائی کورٹ میں پانچ ججوں کی آسامیوں کے لیے نامزدگیاں طلب کی تھیں۔ کمیشن کے ارکان نے بلوچستان ہائی کورٹ کے لیے 20 اور اسلام آباد ہائی کورٹ کے لیے 7 امیدواروں کے نام تجویز کیے تھے۔ذرائع کے مطابق تمام امیدواروں کے انٹرویوز مکمل ہونے کے بعد کمیٹی نے اپنی سفارشات کو حتمی شکل دے دی ہے۔ ہر امیدوار کا انٹرویو تقریباً 15 سے 20 منٹ تک جاری رہا، جبکہ کمیٹی کے ارکان نے امیدواروں کی اہلیت پر اپنی رائے دینے کے بعد اکثریتی بنیاد پر فیصلہ کیا۔ذرائع کا کہنا ہے کہ جوڈیشل کمیشن کے ارکان کے درمیان اس بات پر اتفاق پایا گیا کہ 45 سال سے کم عمر امیدواروں کی منظوری نہ دی جائے، اگرچہ آئین میں ہائی کورٹ کے جج بننے کے لیے ایسی کوئی عمر کی پابندی موجود نہیں۔امیدواروں کے مطابق انٹرویوز کے دوران ان کی رپورٹ شدہ عدالتی نظیروں (رپورٹڈ ججمنٹس) سے متعلق سوالات کیے گئے، جبکہ یہ بھی پوچھا گیا کہ وہ اعلیٰ عدالت کا جج کیوں بننا چاہتے ہیں۔