نائیجیریا میں پائپ لائن سے ایندھن چوری کی کوشش، زہریلی گیس سے 37 ہلاک
ابوجا( مانیٹرنگ ڈیسک) نائیجیریا کی تیل پیدا کرنے والی ریاست ریورز میں پائپ لائن سے مبینہ طور پر پیٹرول چوری کرنے کی کوشش کے دوران زہریلے دھوئیں سے کم از کم 37 افراد ہلاک ہوگئے۔ماحولیاتی تنظیم یوتھ اینڈ انوائرنمنٹل ایڈووکیسی سینٹر کے مطابق واقعے کے بعد کئی افراد تاحال لاپتہ ہیں۔ تنظیم کے مطابق 100 سے زائد افراد رات کے وقت چھوٹی کشتیوں کے ذریعے اوکریکا کے علاقے اوکاری جیٹی پہنچے تھے، جہاں وہ پائپ لائن سے نکلنے والا صاف کیا گیا پیٹرول جمع کرنے کی کوشش کررہے تھے۔پولیس کا کہنا ہے کہ واقعے کی تحقیقات جاری ہیں اور ہلاک و متاثرہ افراد کی درست تعداد معلوم کی جارہی ہے۔ حکام کے مطابق کئی افراد زہریلا دھواں سانس کے ذریعے جسم میں جانے کے بعد بے ہوش ہوکر گر پڑے۔مقامی ذرائع کے مطابق بعض افراد بونی دریا میں گر گئے، جبکہ دیگر متاثرین کو علاج کے لیے ہسپتال منتقل کردیا گیا۔نائیجیریا میں پائپ لائنوں سے تیل چوری کئی دہائیوں سے ایک سنگین مسئلہ ہے۔ جرائم پیشہ گروہ پائپ لائنوں میں سوراخ کرکے خام تیل اور دیگر پٹرولیم مصنوعات نکالتے ہیں، جنہیں کشتیوں یا ٹینکروں کے ذریعے غیر قانونی طور پر فروخت کیا جاتا ہے یا غیر قانونی کارخانوں تک پہنچایا جاتا ہے۔ریورز ریاست جنوبی نائجر ڈیلٹا کے علاقے میں واقع ہے، جہاں تیل اور گیس کے بڑے ذخائر موجود ہیں۔یوتھ اینڈ انوائرنمنٹل ایڈووکیسی سینٹر کے مطابق رضاکاروں اور انسانی حقوق کے کارکنوں نے بتایا کہ اوکریکا میں بعض افراد ایک مخصوص قسم کے صاف کیے گئے پیٹرول سے نکلنے والا زہریلا دھواں سانس میں جانے کے باعث ہلاک ہوئے۔نائیجیریا کی سکیورٹی اور شہری دفاعی تنظیم نے عوام اور ذرائع ابلاغ سے اپیل کی ہے کہ وہ واقعے کے بارے میں صرف تصدیق شدہ معلومات پر اعتماد کریں۔ ادارے کے مطابق دیگر سکیورٹی اداروں کے ساتھ مل کر واقعے کی تحقیقات کی جارہی ہیں۔ادارے نے پائپ لائنوں سے تیل چوری کرنے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ایسی سرگرمیاں انسانی جانوں، ماحول اور ملکی معیشت کے لیے انتہائی خطرناک ہیں۔ ماحولیاتی کارکن بھی طویل عرصے سے تیل چوری کو نائیجیریا میں ماحولیاتی آلودگی اور نقصانات کی بڑی وجوہات میں شمار کرتے ہیں۔