افغانستان میں طالبان حکومت کے 5 سال، انسانی حقوق کی صورتحال بدستور سنگین

افغانستان میں طالبان حکومت کے 5 سال، انسانی حقوق کی صورتحال بدستور سنگین

کابل( مانیٹرنگ ڈیسک) افغانستان میں طالبان کے اقتدار کو 5 سال مکمل ہوگئے، تاہم ملک میں انسانی حقوق کی صورتحال بدستور تشویشناک ہے۔ اقوام متحدہ سمیت مختلف عالمی ادارے طالبان حکومت کے دوران خواتین اور دیگر طبقات کے حقوق پر عائد پابندیوں اور انسانی بحران کی نشاندہی کرتے رہے ہیں۔اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے یو این ویمن کی حالیہ رپورٹ کے مطابق طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد خواتین کے خلاف 100 سے زائد احکامات جاری کیے گئے، جن کے نتیجے میں ان پر مختلف امتیازی پابندیاں عائد ہوئیں۔ خواتین کی تعلیم اور روزگار پر پابندیوں کے باعث 2030 تک 25 ہزار سے زائد خواتین اساتذہ اور طبی کارکنوں کی کمی کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔رپورٹ کے مطابق طالبان کے فوجداری ضوابط نے خواتین کی قانونی برابری کو مزید محدود کردیا ہے، جبکہ سخت گیر پالیسیوں کے باعث خواتین کی سماجی سرگرمیاں بھی محدود ہوگئی ہیں۔ تین چوتھائی سے زائد افغان خواتین خود کو گھر سے باہر نکلنے کے لیے غیر محفوظ سمجھتی ہیں۔اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے یوناما کے مطابق 6 سے 8 جون کے دوران ہرات میں طالبان نے مبینہ ڈریس کوڈ کی خلاف ورزی کے الزام میں 2 خواتین کو ہلاک اور 30 کو گرفتار کیا۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ سخت پابندیوں کے باعث افغانستان میں 10 میں سے 7 خواتین ذہنی مسائل کا شکار ہیں۔عالمی ادارہ خوراک (ورلڈ فوڈ پروگرام) کے مطابق افغانستان میں غذائی بحران سنگین ہونے کے باعث 37 لاکھ بچے اور 12 لاکھ سے زائد حاملہ خواتین شدید غذائی قلت کا سامنا کر رہی ہیں۔رپورٹ کے مطابق طالبان حکومت کے دوران اپریل سے جون تک 29 سابق افغان فوجی اہلکاروں کو گرفتار، 8 کو ہلاک اور 5 کو مبینہ طور پر تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ہیومن رائٹس واچ کی محققہ فرشتہ عباسی کے مطابق طالبان حکومت کے پانچ سال افغان عوام کے لیے بے احتسابی اور تباہ کن نتائج کی علامت ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ طالبان نے مذہب کی سخت گیر تشریحات کو جواز بنا کر اقتدار سنبھالا اور انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کا سلسلہ جاری رکھا۔


© 2026 ترکیہ خبر. تمام حقوق محفوظ ہیں. ٹوگیدر میڈیا کی پیشکش.