وفاقی آئینی عدالت سپریم کورٹ کے فیصلوں کی پابند نہیں، اہم فیصلہ
اسلام آباد (تر کیہ خبر) وفاقی آئینی عدالت نے قرار دیا ہے کہ وہ سپریم کورٹ کے فیصلوں سے رہنمائی تو لے سکتی ہے، تاہم ان کی پابند نہیں۔ سپریم کورٹ کی قانونی نظیر آئین و قانون سے مطابقت رکھنے کی صورت میں اختیار کی جا سکتی ہے۔عدالت کے فیصلے کے مطابق نظرثانی کا دائرہ اختیار محدود اور مخصوص ہے۔ نظرثانی صرف ریکارڈ پر موجود واضح غلطی یا ایسی کوتاہی کی بنیاد پر ہو سکتی ہے جس سے انصاف کا قتل عام ہوا ہو۔ یہ درخواست مقدمے پر دوبارہ بحث یا سماعت کا موقع نہیں۔عدالت نے معمول کے طور پر نظرثانی درخواستیں دائر کرنے کی حوصلہ شکنی کرتے ہوئے کہا کہ فریقین اور وکلا صرف جائز بنیاد موجود ہونے پر رجوع کریں۔ فضول یا بدنیتی پر مبنی درخواست پر کم از کم 25 ہزار روپے اخراجات عائد کیے جا سکتے ہیں، جبکہ ایڈووکیٹ آن ریکارڈ کے خلاف تادیبی کارروائی بھی ممکن ہے۔فیصلے میں کہا گیا کہ درخواست دائر کرنے سے پہلے ایڈووکیٹ آن ریکارڈ یا فریق کو وجوہات پر مبنی سرٹیفکیٹ دینا ہوگا، جبکہ سماعت کے لیے 50 ہزار روپے بطور سیکیورٹی جمع کرانا لازم ہے۔ درخواست مسترد ہونے یا فضول اور بدنیتی پر مبنی قرار پانے کی صورت میں یہ رقم ضبط کی جا سکتی ہے۔ مناسب مقدمات میں زبانی سماعت کے بغیر بھی درخواست نمٹائی جا سکے گی۔وفاقی آئینی عدالت نے واضح کیا کہ آرٹیکل 175F(1)(c) کے تحت ہائیکورٹ کے آرٹیکل 199 کے فیصلے کے خلاف اپیل دائر کرنے کے لیے اس کی اجازت (لیو ٹو اپیل) ضروری ہے۔ یہ اجازت اپیل کا حق نہیں، بلکہ اجازت ملنے کے بعد ہی درخواست اپیل کی حیثیت اختیار کرتی ہے۔ اجازت مسترد ہونے کا مطلب لازماً ہائیکورٹ کے فیصلے کی توثیق نہیں، جبکہ اس مرحلے پر تفصیلی وجوہات دینا بھی ضروری نہیں۔عدالت کے مطابق مختصر یا غیر تفصیلی حکم بذات خود نظرثانی کی بنیاد نہیں بن سکتا۔ لیو ٹو اپیل کے مرحلے پر عدالت قانونی سوال یا انصاف کے قتل عام کو روکنے کی ضرورت کا جائزہ لیتی ہے۔وفاقی آئینی عدالت نے بلوچستان ٹریڈنگ کمپنی کی نظرثانی درخواست مسترد کرتے ہوئے جمع کرائی گئی سیکیورٹی ضبط کرنے کا حکم دیا۔ عدالت کے مطابق کمپنی ریکارڈ پر موجود کسی واضح غلطی کی نشاندہی نہیں کر سکی اور درخواست میں پہلے اٹھائے گئے نکات ہی دوبارہ پیش کیے گئے تھے۔ لیز کی بحالی اور قبضے سے متعلق استدعا بھی مسترد کر دی گئی۔