یورپ شدید گرمی کی لپیٹ میں، فرانس میں 40 افراد ڈوب کر جاں بحق
پیرس(مانیٹرنگ ڈیسک) یورپ کے مختلف ممالک اس وقت شدید اور غیر معمولی گرمی کی لہر کی زد میں ہیں، جبکہ فرانس میں گرمی سے بچنے اور ٹھنڈک حاصل کرنے کی کوشش کے دوران 40 افراد ڈوب کر جان کی بازی ہار گئے ہیں۔فرانسیسی وزیراعظم سباستیان لیکورنو کے مطابق 18 جون سے اب تک ملک بھر میں ڈوبنے کے مختلف واقعات میں 40 افراد ہلاک ہو چکے ہیں، جن میں اکثریت نوجوانوں کی ہے جو شدید گرمی سے بچنے کے لیے دریاؤں، نہروں اور جھیلوں کا رخ کر رہے تھے۔فرانس کے محکمہ موسمیات کے مطابق ملک کے بیشتر علاقوں میں درجہ حرارت 40 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ چکا ہے، جبکہ بعض مغربی علاقوں میں یہ 43 ڈگری سینٹی گریڈ تک جانے کا امکان ہے۔ صورتحال کے پیش نظر 54 اضلاع میں ریڈ الرٹ جاری کر دیا گیا ہے۔حکام کا کہنا ہے کہ فرانس نے 1947 کے بعد اپنی تاریخ کی گرم ترین دوپہر اور رات کا تجربہ کیا ہے، جس کے باعث شہریوں کو غیر ضروری سفر سے گریز اور احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔شدید گرمی کے دوران جنوب مشرقی علاقے کارپینٹراس میں دو اور چار سال کے دو بچے گھر کے باہر کھڑی گاڑی میں بے ہوش پائے گئے اور بعد ازاں دم توڑ گئے، جس نے عوام کو افسردہ کر دیا۔گرمی کی شدت کے باعث ٹرانسپورٹ کا نظام بھی متاثر ہوا ہے اور پیرس اور برسلز کے درمیان متعدد ٹرینیں منسوخ کر دی گئی ہیں، جبکہ کاروباری سرگرمیوں میں بھی سست روی دیکھی جا رہی ہے۔ماہرین موسمیات کے مطابق موجودہ گرمی کی لہر ’’اومیگا بلاک‘‘ نامی موسمیاتی نظام کے باعث پیدا ہوئی ہے، جس کے نتیجے میں گرم ہوا طویل عرصے تک ایک وسیع علاقے پر برقرار رہتی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث مستقبل میں ایسی شدید گرمی کی لہریں مزید عام ہو سکتی ہیں۔فرانس کے علاوہ برطانیہ، اٹلی، اسپین، بیلجیم اور سوئٹزرلینڈ بھی شدید گرمی سے متاثر ہیں۔ برطانیہ میں 39 ڈگری سینٹی گریڈ جبکہ اسپین کے بعض علاقوں میں 44 ڈگری سینٹی گریڈ تک درجہ حرارت پہنچنے کی پیش گوئی کی گئی ہے۔اسپین میں جنگلات میں آگ لگنے کے خدشے کے پیش نظر کئی روایتی تقریبات منسوخ کر دی گئی ہیں، جبکہ بیلجیم میں ایک اسکول نے امتحانات شدید گرمی کے باعث چرچ میں منتقل کر دیے ہیں۔