باکو( ترکیہ خبر)آذربائیجان کے دارالحکومت میں منعقدہ محتسبین کے بین الاقوامی سمٹ کے دوران “مصنوعی ذہانت کے نظاموں میں شفافیت، انصاف اور مساوات” کے موضوع پر ایک پینل اجلاس منعقد ہوا۔خبر رساں ادارے کے مطابق اس اجلاس کی نظامت انقرہ میڈیپول یونیورسٹی کی فیکلٹی آف کمیونیکیشن کے ڈین ارگن ارگول نے کی، جبکہ مباحثے میں مختلف ممالک کے ماہرین اور حکام نے شرکت کی۔ ان میں روس کی انسانی حقوق کی محتسب یانا لانتراتوا (ویڈیو لنک کے ذریعے)، آذربائیجان کی قومی اکیڈمی آف سائنسز کے نائب صدر اور ماہرِ اکیڈمک راسیم علیقلییف، کینیا کی انتظامی انصاف کمیشن کے چیئرمین چارلس ڈولو، آذربائیجان کی وزارتِ ڈیجیٹل ترقی و ٹرانسپورٹ کے ڈیجیٹل ترقی و جدت کے شعبے کے سربراہ رشاد خالیقوف اور یوکرین کے محتسب کے نائب میخائل اسپاسوف شامل تھے۔پینل میں اس بات پر زور دیا گیا کہ مصنوعی ذہانت کی تیز رفتار ترقی اور خودکار فیصلوں کے نظام کا بڑھتا ہوا استعمال جہاں نئے مواقع پیدا کر رہا ہے وہیں کئی سنگین چیلنجز بھی سامنے لا رہا ہے۔ مقررین نے کہا کہ یہ ٹیکنالوجی حکومتی نظام کی کارکردگی بہتر بنانے، شہریوں کو بنیادی خدمات تک رسائی دینے اور سماجی و اقتصادی حقوق کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔تاہم اجلاس میں یہ بھی واضح کیا گیا کہ مناسب قانونی اور اخلاقی ضوابط کے بغیر مصنوعی ذہانت کا استعمال انسانی حقوق کے لیے خطرات پیدا کر سکتا ہے، جن میں رازداری، مساوات، امتیاز سے تحفظ، انسانی وقار، منصفانہ انتظامی عمل اور انصاف تک رسائی جیسے اہم مسائل شامل ہیں۔مباحثے کے اختتام پر اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ بنیادی چیلنج یہ ہے کہ مصنوعی ذہانت کو انسانوں کی خدمت میں رکھا جائے، نہ کہ انسانوں کو ٹیکنالوجی کی حدود کے مطابق خود کو ڈھالنے پر مجبور کیا جائے۔
باکو میں اجلاس، مصنوعی ذہانت میں شفافیت اور مساوات پر تبادلہ خیال
واپس خبروں پر
Category:
آذر بائیجان