ترکیہ خبر

باکو-تبلیسی-کارس ریلوے منصوبہ خطے کو عالمی لاجسٹک مرکز بنانے کی جانب اہم قدم

باکو-تبلیسی-کارس ریلوے منصوبہ خطے کو عالمی لاجسٹک مرکز بنانے کی جانب اہم قدم

 باکو( ترکیہ خبر)گُرجستانی سیاسی تجزیہ کار گیا آباشیدزے نے کہا ہے کہ باکو-تبلیسی-کارس ریلوے منصوبہ صرف ایک ٹرین لائن نہیں بلکہ آذربائیجان کی اس وسیع حکمت عملی کا حصہ ہے جس کے تحت وہ چین، وسطی ایشیا، قفقاز اور یورپ کے درمیان ایک اہم ٹرانزٹ مرکز کے طور پر ابھر رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ اس منصوبے کے معاشی فوائد صرف براہِ راست آمدنی تک محدود نہیں بلکہ اس کے وسیع تر اثرات بھی ہیں، جن میں لاجسٹک مراکز کی ترقی اور خطے کی مجموعی اقتصادی اہمیت میں اضافہ شامل ہے۔ ان کے مطابق یہ ریلوے راستے کے اطراف کے علاقوں کی قدر میں بھی نمایاں اضافہ کرتا ہے۔تجزیہ کار نے کہا کہ برسوں پہلے کی گئی سرمایہ کاری اب عملی نتائج دے رہی ہے۔ ان کے مطابق آذربائیجان کی توانائی اور انفراسٹرکچر پالیسیوں، بڑے ذخائر اور مالی استحکام نے ملک کو خطے میں ایک مضبوط توانائی مرکز بنا دیا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ آذربائیجان نہ صرف ٹرانزٹ فیس سے فائدہ حاصل کر رہا ہے بلکہ وہ روس اور سوئز کینال کے متبادل راستے کے طور پر بھی اپنی حیثیت مضبوط کر رہا ہے، جس سے اس کی سفارتی اور معاشی اہمیت میں اضافہ ہو رہا ہے۔گیا آباشیدزے کے مطابق یہ ریلوے اب تجرباتی منصوبے سے آگے بڑھ کر یوریشیا کے ایک اہم لاجسٹک روٹ میں تبدیل ہو رہا ہے جو عالمی سطح پر کنٹینر ٹرانسپورٹ کے لیے مقابلہ کر سکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ جب کسی ریلوے پر مال برداری 50 لاکھ ٹن تک پہنچتی ہے تو وہاں مستقل تجارتی بہاؤ قائم ہونے لگتا ہے اور اس کے گرد صنعتی و کاروباری سرگرمیاں فروغ پاتی ہیں۔ان کے مطابق مستقبل میں کنٹینر ٹرانسپورٹ کا بڑھتا ہوا رجحان اس بات کی علامت ہے کہ یہ راستہ الیکٹرانکس، گاڑیوں کے پرزہ جات، صنعتی مصنوعات اور ای-کامرس سامان کی ترسیل میں اہم کردار ادا کرے گا، جس سے یہ صرف ٹرانزٹ نہیں بلکہ عالمی سپلائی چین کا حصہ بن جائے گا۔انہوں نے کہا کہ اس طرح باکو-تبلیسی-کارس ریلوے وسطی راہداری کا ایک مضبوط اور پائیدار ستون بنتا جا رہا ہے۔