امریکا کے ایران میں نئے فضائی حملے، متعدد علاقوں کو نشانہ بنایا گیا
واشنگٹن( مانیٹرنگ ڈیسک) ایران کے مختلف علاقوں میں امریکی فضائی حملوں کی اطلاعات سامنے آئی ہیں، جبکہ ایرانی حکام نے متعدد شہروں اور تنصیبات کو نشانہ بنائے جانے کی تصدیق کی ہے۔ایران کی فوجی قیادت کے قریب سمجھی جانے والی خبر رساں ایجنسیوں کے مطابق سرک، بندر عباس، جاسک اور دیگر ساحلی علاقوں کے قریب دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں، جبکہ جنوبی صوبہ خوزستان کے مختلف شہروں میں بھی فضائی حملوں کی اطلاعات موصول ہوئیں۔سرکاری ایرانی خبر رساں اداروں کے مطابق خوزستان کے حکام نے بتایا کہ رات گئے اہواز، بہبہان، دزفول، امیدیہ، ماہشہر، آبادان اور شادگان کے مختلف مقامات کو میزائل حملوں کا نشانہ بنایا گیا۔دوسری جانب خوزستان کے نائب گورنر نے بندر خمیر پر حملے اور دھماکے کی اطلاعات کی تردید کی ہے۔ایرانی حکام کے مطابق ماہشہر میں واقع ایک زرعی واٹر پمپنگ اسٹیشن پر میزائل حملے کے نتیجے میں ایک شخص جاں بحق جبکہ چار افراد زخمی ہوئے۔ادھر امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) نے اعلان کیا ہے کہ 12 اور 13 جولائی کی درمیانی شب ایران کے خلاف نئی فوجی کارروائیاں مکمل کر لی گئی ہیں۔ امریکی فوج کے مطابق ان حملوں کا مقصد آبنائے ہرمز میں بین الاقوامی جہاز رانی کو لاحق خطرات کم کرنا اور ایران کی عسکری صلاحیتوں کو محدود کرنا تھا۔سینٹکام کے مطابق کارروائیوں میں لڑاکا طیاروں، بحری جنگی جہازوں، فضائی ڈرونز اور پہلی مرتبہ سمندری ڈرونز کا استعمال کیا گیا۔ امریکی دعوے کے مطابق حملوں میں ایران کے فضائی دفاعی نظام، ساحلی ریڈار تنصیبات، میزائل اور ڈرون صلاحیتوں سمیت بعض بحری اثاثوں کو نشانہ بنایا گیا۔امریکی سینٹرل کمانڈ نے اپنے بیان میں کہا کہ آبنائے ہرمز عالمی تجارت کی اہم ترین بحری گزرگاہوں میں شامل ہے اور امریکی افواج تجارتی جہازوں کی آزادانہ اور محفوظ آمد و رفت یقینی بنانے کے لیے خطے میں تعینات ہیں۔