امریکا کا محمود عباس کو جنرل اسمبلی میں شرکت کیلئے ویزا دینے سے انکار

امریکا کا محمود عباس کو جنرل اسمبلی میں شرکت کیلئے ویزا دینے سے انکار

واشنگٹن (مانیٹرنگ ڈیسک) امریکا نے فلسطینی صدر محمود عباس کو آئندہ ہفتے نیویارک میں ہونے والے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کیلئے ویزا دینے سے دوبارہ انکار کردیا۔رائٹرز کے مطابق فلسطینی حکام نے محمود عباس کا ویزا مسترد کیے جانے کی تصدیق کی ہے۔ یہ مسلسل دوسرا سال ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے فلسطینی صدر کو جنرل اسمبلی کے اجلاس میں ذاتی طور پر شرکت اور خطاب سے روک دیا ہے۔امریکی محکمہ خارجہ نے فیصلے کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ بعض فلسطینی حکام پر ویزا پابندیاں ان اقدامات کے باعث برقرار رکھی گئی ہیں جنہیں واشنگٹن اسرائیل فلسطین تنازع کو بین الاقوامی اداروں تک لے جانے کی کوشش قرار دیتا ہے، جن میں اسرائیل کے خلاف بین الاقوامی عدالتوں میں مقدمات بھی شامل ہیں۔فلسطینی اتھارٹی کی وزارت خارجہ نے امریکی فیصلے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ اقدام فلسطینی اور امریکی تعلقات بہتر بنانے اور دو ریاستی حل کیلئے مطلوب سیاسی ماحول پیدا کرنے کی کوششوں کے منافی ہے۔فلسطینی حکام کے مطابق فلسطینی اتھارٹی نے سماجی بہبود، مالیات، انتظامی امور، تعلیم اور قانونی نظام سمیت مختلف شعبوں میں اصلاحات بھی کی ہیں۔امریکا عام طور پر اقوام متحدہ کے ہیڈکوارٹرز تک غیر ملکی سفارتکاروں کی رسائی کی اجازت دینے کا پابند ہے، تاہم واشنگٹن کا کہنا ہے کہ سکیورٹی، انتہاپسندی اور خارجہ پالیسی سے متعلق وجوہات کی بنیاد پر ویزا مسترد کیا جاسکتا ہے۔یہ فیصلہ ایسے وقت سامنے آیا ہے جب جنرل اسمبلی کے اجلاس کے دوران فلسطین کا معاملہ عالمی توجہ کا مرکز بننے کی توقع ہے۔ گزشتہ برس امریکا کے بعض اتحادی ممالک نے فلسطین کو ریاست تسلیم کیا تھا۔


© 2026 ترکیہ خبر. تمام حقوق محفوظ ہیں. ٹوگیدر میڈیا کی پیشکش.