امریکا ایران کشیدگی میں اضافہ، امریکی حملوں کے جواب میں میزائل فائر
تہران، واشنگٹن، دوحہ(مانیٹرنگ ڈیسک) امریکا نے ایران پر مسلسل دسویں رات فضائی حملے کیے، جن میں ایرانی فوجی کمانڈ مراکز کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا گیا۔ جواب میں ایرانی فوج نے کویت اور بحرین میں موجود امریکی فوجی اڈوں پر میزائل حملے کیے۔ایرانی ذرائع کے مطابق جزیرہ قشم، بندرعباس، چابہار، کنارک اور اصفہان سمیت مختلف علاقوں میں دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں، تاہم ایرانی حکام کی جانب سے فوری طور پر جانی نقصان یا حملوں کی تفصیلات جاری نہیں کی گئیں۔خلیج فارس کے ساحلی علاقے سرک کے قریب بھی متعدد دھماکوں کی آوازیں سنائی دینے کی اطلاعات ہیں۔ ایرانی خبر رساں ادارے کے مطابق ان دھماکوں کی درست جگہ کی تصدیق نہیں ہوسکی، جبکہ بعض مقامی رپورٹس میں سمندر کی جانب سے دھماکوں کی آوازیں آنے کا ذکر کیا گیا ہے۔دوسری جانب پاسداران انقلاب نے دعویٰ کیا ہے کہ کرمان کے علاقے رودبار جنوبی کی فضاؤں میں امریکی فوج کی جانب سے داغا گیا کروز میزائل ناکارہ بنا دیا گیا۔امریکی سینٹرل کمانڈ نے بیان جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران کے خلاف مسلسل دسویں رات کی کارروائی مکمل کرلی گئی ہے۔ امریکی فوج کے مطابق حملوں میں میزائل اور ڈرون لانچنگ مقامات، فضائی دفاعی نظام اور ایرانی فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا۔سینٹکام نے اپنے بیان میں کہا کہ امریکی فورسز نے ایران کے فوجی کمانڈ مراکز، بحری صلاحیتوں، میزائل اور ڈرون لانچ سائٹس سمیت فضائی دفاعی نظام کے خلاف کارروائی کی۔بیان میں مزید کہا گیا کہ اہم عالمی بحری راستے سے تجارتی جہازوں کی آمدورفت جاری ہے، جبکہ مئی کے آغاز سے اب تک امریکی افواج نے تقریباً 900 تجارتی جہازوں اور 45 کروڑ بیرل خام تیل کی نقل و حمل میں معاونت فراہم کی ہے۔امریکی سینٹرل کمانڈ کے مطابق ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے شہری بحری جہازوں کے خلاف کسی بھی کارروائی کا جواب دینے کے لیے امریکی فورسز مکمل طور پر تیار اور چوکس ہیں۔